ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 162
سکے تو اس کا بدلہ دے دو یا دعا ہی کر دو۔ہفتم۔لڑکی دینے والا اگر خدمت کراوے تو داماد کو کرنی چاہیے اور اگر لڑکی کا ولی کچھ مانگے تو کوئی حرام نہیں۔قوائے انسانیہ کی دو اقسام انسانی قویٰ کی تقسیم دو طرح پر ہے اوّل وہ قویٰ جو انسانی دخل و تصرف کے نیچے ہیں اور ان سے کام لینا یا نہ لینا انسان کی وسعت میں ہے اور یہی قویٰ ہیں جن کے متعلق انسان حضور الٰہی میں جواب دہ ہے۔دوئم جن قویٰ میں انسانی دخل و تصرف بالکل نہیں … ان کے متعلق انسان سے باز پُرس بھی نہیں ہوگی۔بدیوں سے بچنے کے دو سامان بدیوں سے بچنے کے دو سامان ہیں۔اوّل۔اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان اور اس سے دعا۔دوئم۔جزا سزا پر پورا ایمان۔اللہ پر ایمان سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ سبوح، قدوس، حمید ، مجید ہے۔غرض الاسماء الحسنیٰ کا مالک ہے اس کا قرب ان لوگوں کو حاصل نہیں ہو سکتا جو بد کار ہیں پاک صاف نہیں باکمال نہیں۔اس کے مقرب وہی ہیں جو اس کے صفات کے رنگ میں رنگین ہیں۔جزاسزا پر ایمان سے یہ مراد ہے کہ انسان ایک آدمی کے سامنے اپنی بے عزتی نہیں چاہتا تو جس جگہ ہزاروں اوّلین اور آخرین جمع ہوں گے وہاں کیوں سزا یابی کے افعال لے کر جاوے۔اسی وجہ سے اہل مکہ ان دونوں امروں پر بحث کیا کرتے تھے اور ان کو ان امور کا جواب دیا گیا۔(الحکم جلد۷ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۰؍اکتوبر۱۹۰۳ ء صفحہ۳) دو آسمانی امان حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے دو امان نازل ہوئے تھے ایک تو ان میں سے اٹھ گیایعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود باجود مگر دوسری امان قیامت تک باقی ہے اور وہ استغفار ہے۔پس استغفار کرتے رہا کرو