ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 160

تبادلہ خیالات کی اہمیت اور اسلام میں اس کے مواقع اہل فلسفہ نے مانا ہے کہ تبادلہ خیالات کے واسطے سیاحت اور سفر بہت ضروری ہے اور جب تک انسان مختلف ممالک کے اخلاق عادات کو نہ دیکھے تو وہ اصلاح نہیں کر سکتا۔شریعت اسلام نے اوّل تو تبادلہ خیالات کا اس طرح کیا کہ ہر محلہ کی مسجد میں وہاں کے لوگ پانچ وقت جمع ہوں پھر ہر جمعہ کے دن دیہات کے سب لوگ اور عیدین وغیرہ پر شہر اور دیہات کے سب لوگوں کا اجتماع کیا ہے اور کل ممالک کے اجتماع کے واسطے حج رکھا ہے مگر یہ دنیا کا خیال ہے اور چونکہ غریب لوگ ایسے فوائد قوم کو نہیں پہنچا سکتے اس لئے صرف امراء کی تخصیص کی۔اجتماع میں چونکہ حفظ صحت کا خیال ضروری ہے اس لئے ر یتلے میدان میں یہ اجتماع رکھا۔پھر سٹیچو وغیرہ یاد گاریں لوگ بناتے ہیں تو بتوں کے دشمن کو واجب تھا کہ ایک یادگار مواحدانہ بنایا جاتا۔(البدر جلد۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۹۴‘۳۹۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش ذنب کے دو معنی   (الفتح : ۳) کے متعلق دو معنی مجھے سمجھ میں آئے ہیں۔ایک معنے تو امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کئے ہیں اور وہ اس طرح پر ہیں کہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو لوگ اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے ہیں لیکن جب وہ کامیاب ہوجاتا ہے تو اعتراض کرنے والے خود بخود شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کرتے تھے لیکن جب آپ فاتح ہو گئے تو ان کو معلوم ہو گیا کہ وہ اعتراض ان کی اپنی غلطی تھی۔دوسرے معنی جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں وہ یہ ہیں۔ذنبک یعنی تیرے قصور، کیا مطلب کہ جو بدیاں اہل مکہ نے تجھ سے کی ہیں اور ہجرت سے پہلے جو ایذائیں اور تکلیفیں دی ہیں وہ