ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 15 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 15

رائے سے اتفاق نہ کر سکا۔پھر مجھے جرأت ہوئی تو میں نے اتقان پر نظر کی ( یہ کتاب میرے نزدیک اسلامیوں کا فخر ہے اور اس رنگ کی کتاب سنی شیعہ خوارج میں میں نے نہ سنی دیکھی اور نہ مجھے امید ہے کہ ہو۔)تو اس میں بیس کے قریب آیات میری نگاہ میں پڑی۔پھر کیا تھا گویا مجھے بادشاہی مل گئی۔مگر ان آیات پر بھی جب میں نے غور کیا تو مجھے حسرت ہوئی اور مجھے اللہ کریم نے محض اپنے فضل وکرم سے مجھ پر رحم فرمایا کہ مجھے ایک عجیب و غریب کتاب فو ز الکبیر فی اصول التفسیر مل گئی۔سبحان اللہ کیا نورانی کتاب ہے۔اس میں پانچ ہی آیت کو منسوخ قرار دیا۔اللہ اللہ وہ دن دنیا میں مجھ پر عجیب تھا۔مارے خوشی کے میں جامے میں نہیں سماتا تھا۔اور اصل خوشی کا باعث یہ تھا کہ میرے دل نے مجھے پکار کر کہہ دیا کہ نور الدین! قرآن میں آیت منسوخ کوئی نہیں اور ہرگز قرآن میں آیت منسوخہ موجود نہیں کیونکہ اگر آیات منسوخہ قرآن میں موجود ہوتیں تو کم سے کم کچھ ایماجناب باری سے یاجناب صادق ، مصدوق، حبیبی و خلیلی سَیَّدُنَا وَ مَوْلَانَا وَ رَسُوْلُـنَا وَ نَبِیُّنَا اَصْفَی الْاَصْفِیَائِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَ اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیَّاتِہٖ وَ اَہْلِ بَیْتِہٖ سے یا حضرات خلفاء راشدین سے یا ابوبکر ـؓ وعمرؓسے جو ر اس رئیس علماء وقت ہیں ا ن سے کچھ ثابت ہوتا۔یہ امر نسخ کا دعویٰ علماء نے اپنے خیال سے کیا ہے۔جب دوآیات کی تطبیق نہیں آئی تو دعویٰ کر دیا ایک آیت منسوخ ہے۔پس میں ایسی آیت منسوخہ کا جو موجودہ فی القرآن ہوں قائل نہ رہا۔شاید میرے الفاظ عمدہ طور پر مقصد کو ادا نہیں کر سکے۔منشاء یہ ہے کہ میں اس بات کا قائل ہی نہ رہاکہ قرآن مجید میں کوئی منسوخ آیت موجود ہے۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اور میں نے پانچ مقامات کو تفاسیر میں دیکھنا شروع کیا تو بحمد اللہ پانچوں ایسے مقام تھے کہ تفسیر کبیر جیسی عام تفسیر سے وہ معنے صاف حل ہو گئے۔صرف دو مقام پر میری تسلی نہ ہوئی جو پھر اور تفاسیر سے وہ بھی حل ہو گئے۔میں مدینہ سے لاہور پہنچا۔وہاں ایک شخص فرقہ اہل حدیث کا مجھے ملا۔اس نے کہا ہم قرآن پر کیسے عمل کریں جبکہ ہمیں معلوم نہیں کہ ناسخ کیا ہے اور منسوخ کہاں ہے۔میں نے اس شخص کو کہا کہ قرآن مجید میں منسوخ آیت کوئی نہیں۔وہ تو آگ ہو گیا اور مجھے پکڑ کر ایک شخص محمد حسین بٹالوی