ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 14

الْہِنْدِ وَ اَنَا اُحِبُّہٗ لِلّٰہِ وَ فِی اللّٰہِ وَ بِاللّٰہِ۔تیسرا امر جس پر مترجم کو توجہ کرنا لازمی اور ضروری ہے متشابہ اور محکم کا لحاظ ہے۔شیعہ سنیوں کے دلائل میں جو آیات مذکور ہوتی ہیں اُ ن کو متشابہ کہتے ہیں اور سنی شیعہ کے دلائل پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ابن تیمیہ ، ابن قیم اور شو کانی نے جن آیات کو محکم کہا ہے اُن کو ان کے مخالفوں نے متشابہ کہا۔غرض یہ بحث اس زمانہ میں قابل غورہے۔رحمت کرے اللہ امام المحدثین امام بخاری پر جس نے ان تمام قصوں کو پاک کر دیا ہے کہ متشابہ کے معنے کئے ہیں۔یُصَدِّقُ بَعْضُہَا بَعْضَ۔سبحان اللہ کیسی پاک اور صاف بات ہے جس نے صدہا جھگڑے ختم کر دئیے اور تمام نزاعوں کو جڑ سے کاٹ ڈالا۔چوتھا امر جس پر توجہ چاہئے وہ مقطعات قرآنی پر غو رکرنا ہے۔نواب صدیق حسن نے جیسے لوگوں کو ان کے معانی کرنے سے ڈرایا ہے اور آپ نے امام شو کانی سے اس امر میں حصہ لیا ہے قابل مضحکہ ہے کیونکہ مقطعات پر صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین اور ائمہ تصوف نے غور فرمائی اور یوں نہیں کہہ دیا کہ ان کے معنے کوئی نہیں جانتا۔ہاں بات بہت باریک ہے اور کسی قدر فارسی ترجمہ میں جو سعدی کی طرف منسوب ہے کہیں کہیں ا س امر کو خوب نباہا ہے۔میں بھی ان پر آجکل کچھ لکھ رہا ہوںاور میرے مقتدیٰ ان معانی میں صحابہ و تابعین ہیں۔سو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اور ان معانی کا ثبوت انشاء اللہ قرآن کریم اور اقوال سلف سے دیا ہے۔پانچواں مسئلہ جس پر بڑی غور ضرور ہے نسخ کا مسئلہ ہے۔میں اپنا ایک قصہ سنا کر اس بحث کو ختم کر دیتا ہوں۔آپ اس قصہ پر غور فرما لیں۔جزاکم اللّٰہ احسن الجزاء۔میں ایام طالب علمی میں مدینہ طبیہ پہنچا اور مجھے اتباع نبوی اور اطاعت قرآن کریم کا جوش تھا۔اس لئے ضروری سمجھا کہ آیات منسوخہ کو یاد کر لوں۔اس لئے میں مدینہ کے کتب خانہ میں گیا۔وہاں مجھے ایک کتاب ملی جس میں پانچ چھ سو آیت منسوخ کا ذکر تھا۔وہاں سے وہ کتاب لایا اور ارادہ کیا کہ یہ کتاب یاد کر لوں۔مگر بعض آیات کو جو اس نے منسوخ کہا میں اس رسالہ والے کی