ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 125 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 125

موسیٰ علیہ السلام کے مدین میں رہنے سے سبق ۱۔خلق اللہ پر رحم اور شفقت کرے اور محض اللہ تعالیٰ کے واسطے کرے نہ کسی اجر کے واسطے جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریوں کو پانی پلانے میں کیا۔۲۔اپنے آرام کی تجاویزسوچے اور طبیعت کو خراب نہ کرے۔موسیٰ علیہ السلام نے جیسے سایہ میں بیٹھ کر دعائیں شروع کر دیں دعاؤں سے کام لے۔۳۔بجائے اس کے کہ انسان خود سوال کرے چاہیے کہ محنت ومزدوری سے کام لے اور والدین کی آخری عمر میں ان کی خدمت کرے جیسا کہ ان دو لڑکیوں نے کیا۔۴۔اگر کوئی تم سے نیکی کرے تو تم اس کا ضرور خیال رکھو اس احسان کا بدلہ دینے کی کوشش کرو اگر نہ دے سکو تو دعا کرو۔دعا کرو حتی کہ تمہیں یقین ہو جاوے کہ حق ادا ہوگیا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  (النساء :۸۷) ۵۔اگر بے مانگے کوئی چیز آجاوے تو اس کے لینے سے مضائقہ نہ کرے ہاں اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ دے دو یا دعا ہی کر دو۔۶۔لڑکی دینے والا اگر خدمت کرا وے تو داماد کو کرنی چاہیے اور اگر وہ کچھ اس امر کے بدلہ میں لڑکی کا ولی کچھ مانگے تو حرام نہیں۔حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کے مختصر اسرار حضرت یونس علیہ السلام کی دعا جو قرآن شریف میں درج ہے وہ یہ ہے۔(الأنبیاء : ۸۸) یہ ایک بڑی عظیم الشان دعا ہے۔اس میں انہوں نے اپنا حال بھی عرض کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے صفات کو بھی بیان کیا اور یقین کر لیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کر سکتا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ گناہ انسان کی غلطی کا موجب ہوتا ہے اور اس کا علاج استغفار ہے۔اللہ تعالیٰ کی توحید کا جو انسان پر ساری نیکیوں کے دروازے کھولتی ہے اس کا اقرار کیا اور استغفار جو شر کے دروازے بند کرتا ہے اس پر ایمان لائے تکلیف کا سبب بیان کیا