ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 124 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 124

چلنے کی خواہش کرے اور ان میں سے کسی ایک جیسا بننے کی کوشش کرے۔یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی یا مرسل کا ذکر کرتا ہے تو عموماً فرماتا ہے فَاعْتَبِرُوْا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ۔قرآن شریف کی اصل غرض قرآن شریف کی اصل غرض عمل ہے اور عمل کے واسطے تدبر ہے۔تد ّبر کے واسطے ضروری ہے کہ پانچ آیت سے کم نہ ہوں اور دس آیت سے زیادہ نہ ہو۔تدبر کے وقت جب کسی نبی یا ولی یا فرشتہ کا ذکر آوے تو انسان دعا کرے اور خود کوشش کرے کہ ویسا بن جاوے اگر کسی بد انسان یا شیطان کا ذکر آوے تو اس راہ سے بچنے کی کوشش کرو اور دعا اور استغفار وغیرہ کرتے رہو۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور علم تام اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور علم کامل کے مطالعہ سے ایمان ترقی کرتا ہے اور انعامات الٰہیہ کے مطالعہ سے محبت پیدا ہوتی ہے اور یہ باتیں انسانی فطرت میں ہیں کہ اپنے سے زیادہ طاقت وقدرت والے اور زیادہ علم والے سے خوف کرتا ہے اور اس کا فرمانبردار بنتا اور پھرا س کو فخر جانتا ہے اور اپنے محسن سے پیار بھی کرتا ہے اسی واسطے خدا تعالیٰ کبھی اپنی قدرتِ کاملہ اور علم تام کا بیان کرتا ہے تاکہ انسان اور سلیم الفطرت انسان ان کے مطالعہ سے ایمان ومحبت میں ترقی کرے۔گناہ کی معافی کے ذرائع ۱۔توبۃ النصوح ۲۔سچائی لانا ۳۔سچائی کی تصدیق کرنا۔۴۔نقصان ہو جانا ۵۔مصائب کا آنا ۶۔موت کا کرب ۷۔قبر کاکرب۸۔حشر کا کرب ۹۔صراط کا کرب ۱۰۔جہنم کاعذاب ۱۱۔کسی دوسرے درد مند دل کا اس کے واسطے صدقہ ۱۲۔زندگی میں یا بعد الموت ہو ۱۳۔شفاعت خواہ انبیاء کی ہو خواہ والدین کی ہو خواہ اولاد کی ہو خواہ ملائکہ کی ہو خواہ مسلمانوں کی ہو ۱۴۔ہجرت۔(الحکم جلد۷ نمبر۱۷ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۲)