ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 117
مسند احمد بن حنبل اور طبرانی کی اوسط میں ہے اور کچھ احادیث علیٰ پرچہ پر لکھوا دی ہیںملاحظہ فرماویں۔۳۔مدرک رکوع حسب فرمان عالیشان سرور عالم فخروسید آدمﷺ مدرک رکعت ہے۔اس کے خلاف کوئی ذی علم فتویٰ نہیں دے سکتا۔مگرجناب من! غور کرو۔رکوع میں تووہی شخص جاوے گا جس نے رکوع کے پہلے فرائض کوپورا کر لیا۔کیا ایک شخص اگرامام کورکوع میں پاوے توبدون وضو یابدون تکبیرتحریمہ یا قیام کے وہ رکوع میں شریک ہو سکتا ہے۔ہرگزنہیں۔اسی طرح میرے فہم و علم میں ہے الحمدشریف پڑھ کر امام کاساتھ دینا چاہیے۔پس قرأت الحمدشریف کے اگرمقتدی نے امام کو رکوع میں پا لیاتووہ رکعت ہو گئی اور اگر امام کوسجدہ میں پایا تورکعت نہ ہوئی۔یہ ہے میرے نزدیک امرمحقق اور میں بحمداللہ کسی کے جواب کے لیے کذب اورتقوّل علیٰ اللہ ہرگز نہیں کرتا۔اورنہ مجھے ضرورت تھی کہ مولوی فضل الدین صاحب کے ردّ کے لیے کچھ ایسا لکھتا جو خلاف اللہ ورسول کے ہوتا۔۴۔نمازفرض کے بعدسنت کا پڑھنا احادیث سے ثابت ہے اوربعد طلوع آفتاب کے بھی جائز ہے۔غور کرو۔حدیث علیٰ حدہ مرقوم اورملفوف ہیں دیکھ لیجیئے۔۵۔اَسْفِرُوْابِالْفَجْرِ(سنن النسائی ،کتاب المواقیت ، باب الاسفار۔حدیث نمبر ۵۴۸) کے بدلہ دوسری جگہ اَصْبَحُوْا بھی ہے۔اور اس کی بابت اَسْفِرُوْا کے معنی خود حدیث بلال میں موجود ہیں۔اس کو علیٰ حدّہ پرچہ پر لکھ دیا ہے ملاحظہ فرمائیے۔اگر پھر کچھ کلام ہو تو اطلاع دیجیئے مگرجواب میں آپ کومعلوم رہے کہ مجھے کام بہت رہتے ہیں۔والسلام آپ کے سوال نمبر ۶و۷ مفصل مرقوم ہے۔آپ نے (البقرۃ :۶۶) میں دو اعتراض فرمائے ہیں۔اوّل۔یہ کہ قرآن میں مجازممکن نہیں پھراگر حکایات میں مجاز ہوا تو سب حکایات قرآنی مجازہوں گی اور اسی کلام ہی میں کذب ثابت ہوتا ہے۔