ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 116 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 116

مکتوبات حکیم الامت السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے پاس جواب طلب خطوط بکثرت آتے ہیں اور ہر ایک یہی لکھتا ہے کہ جواب میں دیر نہ فرماویں۔مثلاً ایک شخص نے لکھا ہے کہ میرا مباحثہ آریہ اور عیسائیوں سے ہے۔تاریخ مقرر ہے ہفتہ کے اندر جواب دواور سوالات ذیل لکھ دئیے۔تناسخ کی تردید مفصل لکھو۔وجوہ تحریف توریت و انجیل بہ تفصیل لکھو۔قصہ نکاح زینب کا بہ تفصیل جواب دو۔وغیرہ وغیرہ۔ایک کاٹکڑہ بطور نمونہ ذیل ہے۔۱۔اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ(صحیح البخاری ، کتاب العتق، باب اذا ضرب العبد فلیجتنب الوجہ حدیث نمبر ۲۵۵۹)قاتل فعل متعدی ہے اس کا مفعول محذوف ہے۔اصل عبارت یوں ہے اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ اَحَدًا۔مفعول چونکہ معلوم غیر ملتبس تھا اور اَحَدُکُمْ قرینہ ہے اس کوحذف کردیااور منہ کی تخصیص اس لیے ہے کہ منہ (وجہ) ہی تمام قوائے ضروریہ کا مجمع۔آنکھ،ناک،زبان بلکہ کان اور ماتھاجس میں تمام اخلاقی قویٰ موجود ہیں سب منہ میں ہیں۔ماتھے کے ہر ایک طرف صُدغین کے اوپر وہ مقام ہے کہ اگر اسے صدمہ پہنچ جاوے تو زبان بند ہو سکتی ہے۔بدن میں علی العموم ایسے مقامات نہیں۔مشابہ میں ہمیشہ امور مختصہ مراد ہوا کرتے ہیں مثلاً زَیْدٌ کَالْاَسَدِ میں شجاعت مراد ہوا کرتے ہیں اس کا دُم ضرور نہیں۔انسان اخلاق فاضلہ اور قویٰ ملکیہ میں اشرف المخلوقات اور مشابہ آدم ہے۔اور ان قویٰ کا بڑا مجموعہ منہ میں ہے اس لیے منہ پر مارنا درست نہیں۔۲۔سماع موتیٰ کے ثبوت میں احادیث بکثرت ہیں۔میں چند حوالے دیتا ہوں۔آپ رجوع الی الکتاب کر کے نقل کر لیں۔پرچہ علیٰ حدہ ملفوف ہے۔شرح الصدور فی احوال الموتٰی والقبور میں مفصل مرقوم ہیں۔اور یہ عجیب وغریب کتاب بمقام لاہور بازار کشمیری میاں فقیر اللہ سوداگر کتب سے مل سکتی ہے اورحدیث بِسَمْعِ قَرْعِ نِعَالِھِمْ مسلم میں ہے اور حدیث ابوسعید خدری