ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 118
دوم۔جب حکم الٰہی اور ارادہ ہو گیاکہ بندر ہو جاؤ توحکم الٰہی کو کیا وجہ مانع ہوئی کہ وہ بندر نہ ہوئے؟ عزیز من! یہ دونوں امر ایسے منہ سے آپ نے نکالے ہیں کہ ان کے سننے کے بعد عالمانہ جواب دینا مجھے پسند نہیں رہا۔مگرآپ کے حالات سے مجھے اطلاع نہیں اس لیے بپاس خاطر لکھتا ہوں۔ذرہ غور سے سنو! امام سیوطی عقودالجمان میں فرماتے ہیں دیکھو بحث مَجَازُ اَقْسَامِہٖ حَقِیْقَتَانِ الطَّرْفَانِ۔اَوْحِجَازَانِ کَذَا مُخْتَلِفَانِ۔کَاَ نْبُتِ الْبَقْلِ شَبَابِ الْعَصْرِ۔وَالْاَرْضُ اَحْیَاھَا رَبِیْعُ الدَّھْرِ۔وَشَاعَ فِی الْاِنْشَا وَالْقُرْاٰنِ۔اور اس کی شرح میں فرماتے ہیں۔وَقَعَ الْمَجَازُ الْعَقَلِیُّ فِی الْقُرْاٰنِ کَثِیْرًا۔پھر شرح میں امام سیوطی نے تین اور مثالیں دی ہیں۔اوّل۔(المزمل : ۱۸) حالانکہ دن بوڑھا نہیں۔بوڑھا کر دینا اللہ کا کام ہے۔دوم۔(القصص : ۵) حالانکہ ثابت نہیں فرعون اپنے ہاتھ سے کرتا تھا۔اگر کہا جاوے کہ اس کے حکم سے ذبح ہوئے تو مجاز ہو گیا۔سوم۔(الانفال :۳)۔اوّل تو ایمان کا زیادہ ہونا مجاز ہے پھر ایمان کوزیادہ کرنے والا اللہ ہے نہ آیات۔اور چار مثالیں میں اور سنا تا ہوں۔اوّل۔(القارعۃ : ۱۰) اللہ تعالیٰ سورۃ القارعہ میں فرماتا ہے جس کے نامہ اعمال خفیف ہوئے اس کی ماں ہاویہ ہے۔آپ غور کرویہ کیسی حقیقت ہے۔دوم۔(البلد: ۱۲ تا ۱۴) یہاں غلاموں کا آزاد کرنا،مساکین کا کھانا کھلانا،ڈھکی اور پہاڑ فرمایا۔سوم۔(النور: ۴۴) اللہ تعالیٰ آسمان سے بادل سے پھاڑتا آتا