انسان کامل — Page 16
14 آنحضرت مقابل لوگوں کیلئے کامل نمونہ پھر سلطنت کے کاموں کی وجہ سے اپنے خانگی فرائض کو ضائع نہیں کرتے۔ایک وقت میں تو بیویاں ہیں۔ہر گھر میں باری باری شب باش ہوتے ، دن کو عصر کے بعد ہر گھر س جا کر سلام کرتے ، سودا سلف منگوانے کا انتظام کرتے۔عزیز بیٹی فاطمہ کے گھر میں جاتے۔اس سے ملتے۔اس کے بچوں کو گلے سے لگاتے پیار کرتے۔رعایا میں سے ہر شخص سے اس طرح ملتے کہ وہ سمجھتا کہ شاید میں ہی سب سے افضل اور آپ کا محبوب ہوں۔صبح سے عشاء کی نماز تک انفرادی اور قومی معاملات میں اس طرح مصروف رہتے کہ خود خدا نے فرمایا۔إن لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْعًا طوياً - یعنی سارا دن تو کاموں میں مشغول رہتا ہے۔عشاء کی نماز کے بعد گھرس واپس آتے۔تو چاہیے تھا کہ تھکے ہارے آئے ہیں۔ساری رات آرام کرتے۔مگر ہائے۔نہیں۔وہ بستر پر جا کر تھوڑی دیر آرام کرتے ہیں اور جب ذرا تھکاوٹ دور ہوتی ہے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مصلے پر کھڑے اپنے خدا کے حضور رو رہے ہیں۔بخاری میں لکھا ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام اتنی اتنی دیر تہجد کی نماز میں کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سُوج جاتے۔دوست احباب ، بیوی بچے سب روکتے ، مگر آپ فرماتے۔اَفَلَا أَكونُ عَبْدًا شَكُورًا۔یعنی کیا میں اپنے مولی ، اپنے آقا کا شکر گذار بندہ نہ بنوں سبحان الله وبحمده سبحان الله اله پھر لکھا ہے تہجد کی نماز میں آپ ایسی بے قراری سے روتے اور آپ کے سینے سے ایسی آواز آتی۔جیسے منڈ یا جوش مارتی ہے۔لکھا ہے کہ بعض دفعہ آپ نے تہجد کی نماز شروع کی اور فجر تک یہی آیت پڑھتے رہے اور روتے رہے۔اِن تُعد بهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَ إِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔العظم بیت المال کے متعلق حضور کی احتیاط پھر بادشاہوں میں یہ نقص ہوتا ہے کہ سرکاری خزانہ کو اپنا ذاتی سال سمجھتے ہیں۔مگر حضور کے متعلق لکھا ہے۔کہ مال غنیمت کے ایک اونٹ کی پیٹھ پر ہاتھ مار کر آپ نے کچھ بال اکھیڑے اور لوگوں کو دکھا کر فرمایا۔کہ میرے مقررہ حق کے علاوہ سرکاری خزانہ میں سے یہ بال لینے بھی مجھے جائز نہیں بلکہ مجھ پر حرام ہیں۔