انسان کامل — Page 17
IL حضور کا قومی کاموں میں بطور مزدور حصہ لینا پھر قومی کاموں کی ترغیب کے لئے آپ ہر مشکل کام میں سب سے پہلے نمونہ بنتے۔مسجد نبوی بننے لگی تو سب سے پہلے آپ نے اکیلے ہی پھر ڈھونے شروع کر دیئے اور یہ دیکھ کر ایک انصاری شاعر چلایا۔لو قعدنَا وَ النَّبِيُّ يَعْمَلْ لَذَاكَ مِنَا الْعَمَلُ الْمُضَلَّلُ یعنی نبی اکیلا کام کرے اور ہم بھی ہیں۔یہ تو نہایت ہی بری کاروائی ہوگی۔اٹھو اور کام کرو۔غزوہ احزاب کے موقعہ پر سخت سردیوں کے دنوں میں حضور خندق کھودنے میں شریک تھے۔اور آپ کا سینہ مبارک مٹی سے بھرا ہوا تھا کہ ایک صحابی آیا۔اس نے حضور کو دکھا یا کہ بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ پر پتھر باندھا ہوا ہے۔آپ نے اس کی تسلی کے لئے اپنا پیٹ دکھایا۔اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔کھودتے کھودتے سورج غروب ہو گیا کہ حضرت عمر آئے اور کہنے لگے حضور جس جگہ ہم کام کر رہے تھے۔وہاں کافروں نے ایسا زور کیا ہوا تھا کہ ہم مشکل عصر کی نماز پڑھ سکے۔آپ نے فرمایا۔اور یہاں تو اتنا زور تھا کہ ہم عصر کی نماز ابھی تک بھی نہیں پڑھ سکے۔پھر انتظام ایسا کہ یا تو عرب میں ڈا کے پڑتے تھے یا مکہ سے کویت تک اور خیبر سے ہمیں تک ایک کمز ور عورت مستقیلی پر سونا سیکر چلتی تو کوئی پوچھنے والا تک نہ تھا۔رعب ایسا کہ خود فرمایا - نصوتُ بِالرُّعْبِ مُسِيرَةُ شَهْرٍ یعنی عمدا نے مجھے ایسا رعب دیا ہے کہ عرب سے ایک ایک ماہ کے فاصلہ پر رہنے والی حکومتیں عرب کی طرف آنکھ اٹھا نیکی جرأت نہیں کر سکتیں۔اسی طرح اس زمانہ کے بادشاہوں کا یہ حال ہے کہ نمود کیلئے کبھی خود جاتے ہیں اور کبھی اپنے شہزادوں کو میدان جنگ میں بھیجدیتے ہیں۔جو محفوظ مقامات پر رہتے ہیں۔صرف لوگوں تھا۔جو صرف دل بڑھانے کیلئے میدان جنگ میں جاتے ہیں۔مگر ہمارا با دشان سر جنگ میں پیش پیش رہتا تھا۔حضرت علی با بیا اور کہتا ہے کہ ہم جنگوں کی شدت سے بچنے کے لئے حضور کے پیچھے ہو جایا کرتے تھے جنگ خیلین میں سب سے آگے بڑھے کہ ایک شخص نے سواری کی نچھر کو روکا۔فرمایا اسے چھوڑ دو پھر آگے بڑھ کر فرمایا۔انا التي لاكذب - أنا ابْنُ عَبْدِ المُطلب