انقلابِ حقیقی — Page 13
انقلاب حقیقی مگر جو چیز لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ہو جیسے پانی ہے وہ دنیا میں قائم رہتی ہے۔گذلک يَضْرِبُ الله الامثال اللہ تعالیٰ اسی طرح حقائق لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتا ہے۔ماموریت کا مدعی جو اپنے دعوئی میں کامیاب ہو جائے کبھی جھوٹا نہیں ہوتا اسی آیت سے استنباط کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ اصول پیش کیا ہے کہ ہر مدعی جس کا دعوئی دنیا میں مانا جا کر مدتوں تک قو میں اس کی تعلیم پر عمل کرتی چلی گئی ہوں یقینا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بعض ناواقف اور جاہل مولوی کہا کرتے ہیں کہ آپ نے یہ اصل کہاں سے اخذ کیا ؟ ایسے لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے صرف اعتراض کر دیتے ہیں حالانکہ مذکورہ بالا آیت اور اور کئی آیات سے یہ اصل مستنبط ہوتا اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایسا مذ ہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعوی کرے اور پھر سینکڑوں سال تک دنیا میں قائم رہے اور ہزاروں انسانوں کو روحانی زندگی بخشتا ر ہے جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اور اس کے متعلق یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر اور حضرت بُدھ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے۔پس مخالفین کا یہ اعتراض کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پاس سے بنالیا ہے صرف قرآنی علوم سے ان کی بے خبری کا ثبوت ہے ورنہ اسی آیت میں جو اس وقت میں نے پڑھی ہے اور اور کئی آیات میں یہ اصل موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاما الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء کہ جو بے فائدہ چیز ہوگی وہ ضائع ہو جائے گی۔13