انقلابِ حقیقی — Page 14
۔انقلاب حقیقی واما مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْض مگر جولوگوں کو نفع دینے والی چیز ہووہ قائم رہے گی اور کون کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنا نفع مند چیز ہے۔افتراء یقیناً انسان کو ہلاک کرنے والا فعل ہے اور اس کا دنیا میں جڑھ پکڑ جانا تو الگ رہا اللہ تعالیٰ تو مفتری کو عذاب دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔پس اگر کوئی تحریک دنیا میں کامیاب طور پر قائم رہتی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ یقیناً دنیا کیلئے کوئی ایسا پیغام لاتی ہے جو مفید ہے اور یہ خیال کہ ایک کذاب اور مفتری بھی ایسا پیغام لا سکتا ہے جو لوگوں کیلئے دینی رنگ میں مفید ہو اور دنیا میں قائم رہے کسی احمق کے ذہن میں ہی آئے تو آئے کوئی دانا ایسا خیال نہیں کر سکتا۔اصلاح کا ذریعہ صلح یا جنگ ہے دوسرا اصل جو دنیا میں رائج ہے اور جو مذہبی اور دنیوی دونوں قسم کی تحریکوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہوتا ہے یہ ہے کہ اصلاح کے ہمیشہ دو ذرائع ہوتے ہیں یا صلح یا جنگ۔یعنی یا تو صلح کے ساتھ وہ پیغام پھیلتا ہے یا جنگ اور لڑائی کے ساتھ پھیلتا ہے۔یا تو یہ ہوتا ہے کہ وہ باتیں دنیا میں پھیلا دی جاتی ہیں لوگ اُن پر بخشیں کرتے ہیں اور آخر لوگ انہیں اپنا لیتے ہیں اور اپنے عقائد میں شامل کر لیتے ہیں۔جیسے دنیا میں پہلے لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ زمین چپٹی ہے بلکہ اب تک بھی بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو زمین کو گول نہیں سمجھتے بلکہ چھپٹی سمجھتے ہیں۔چنانچہ میں ایک دفعہ لا ہور گیا اور اسلامیہ کالج کے ہال میں میں نے لیکچر دینا شروع کیا تو ایک شخص میرے لیکچر میں ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔سوال جواب کا بھی موقع دیا جائے گا یا نہیں ؟ پریذیڈنٹ نے پوچھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ وہ کہنے لگا: میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے اور مجھ سے اس بات پر بحث کر 14