انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 12

۔انقلاب حقیقی معلوم نہ ہو۔یا کم سے کم یہ کہ اُس وقت کے لوگ اُسے بُھول چکے ہوں۔مثلاً ہمارے اس ملک میں ایسی انجمنیں کامیابی سے چلتی ہیں جن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو تحریک کریں کہ لڑکوں کو سکول بھیجنا چاہئے ، کیونکہ ہمارے ملک میں لڑ کے عام طور پر سکول نہیں جاتے لیکن لنڈن یا برلن میں اگر کوئی اس قسم کی انجمن بنے جس کی غرض لوگوں کو یہ تحریک کرنا ہو کہ تم بچے سکولوں میں پڑھنے کیلئے بھیجا کرو تو وہ کبھی نہیں چلے گی کیونکہ لوگ کہیں گے جب ہم میں سے ہر شخص اپنے لڑکے کو سکول بھیج رہا ہے تو اس انجمن کے معرض وجود میں لانے کا کیا فائدہ ہے؟ لیکن اگر وہاں کوئی انجمن ایسی بنے جو یہ کہے کہ فلاں قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو نہ دلاؤ بلکہ فلاں قسم کی تعلیم دلاؤ تو چونکہ اس میں ایک نیا پیغام ہوگا اس لئے اگر وہ تحریک مفید ہوگی تو اُسے پیش کرنے والی انجمن مقبول اور کامیاب ہو سکے گی۔غرض وہی تحریکات دنیا میں کامیاب ہوا کرتی ہیں جن میں کوئی ایسی چیز دنیا کے سامنے پیش کی گئی ہو جو اُس وقت دنیا کی نگاہ سے اوجھل ہو یا بالکل نئی ہو۔اس امر کو یورپ والے پیغام کا نام دیتے ہیں۔میں جب یورپ گیا تو عام طور پر مجھ سے یہی سوال کیا جاتا تھا کہ احمدیت کا پیغام دنیا کے نام کیا ہے یعنی احمدیت کے وہ کون سے اصول ہیں یا احمدیت کی تعلیم میں وہ کونسی بات ہے جو دنیا کو معلوم نہ تھی اور احمدیت اُسے پیش کرتی ہے یا جس کی طرف دنیا کو پوری توجہ نہیں اور وہ اس کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہے؟ قرآن کریم بھی اس اصل کو تسلیم کرتا ہے اور فرماتا ہے۔فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الأَمْثَالَ لے کہ جھاگ اور میل چونکہ بے فائدہ چیزیں ہیں وہ اُٹھا کر پھینک دی جاتی ہیں۔الرعد: ۱۸ 12