انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 75

۔انقلاب حقیقی لوگ بزرگوں کے مجسمے پوجنے لگ گئے تھے۔بعض اور نے کوئی اور سادہ قسم کا شرک اختیار کر لیا تھا مگر ابراہیم کے زمانہ میں شرک ایک فلسفی مضمون بن گیا تھا اور اب عقلوں پر فلسفہ کا غلبہ شروع ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ تو حید کی باریک راہیں نکل آئی تھیں جن پر عمل کرنا صرف توحید کے موٹے مسائل پر عمل کرنے سے بہت مشکل تھا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بُت پرستی دنیا میں آج بھی موجود ہے۔مگر آج جب بُت پرستوں کو کہا جاتا ہے کہ تم کیوں بُت پرستی کرتے ہو تو وہ کہتے ہیں ہم تو کوئی بت پرستی نہیں کرتے۔ہم تو صرف اپنی توجہ کے اجتماع کے لئے ایک بُت سامنے رکھ لیتے ہیں۔گویا شرک تو وہی ہے جو پہلے تھا مگر آب شرک کو ایک نیا رنگ دے دیا گیا ہے۔اسی طرح ابراہیم کے زمانہ میں شرک کو نیا رنگ دے دیا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بار بار کہا گیا ہے کہ دما كان من المُشرکین کے اور نوح کی نسبت یہ ایک دفعہ بھی نہیں آیا۔کیونکہ زمانہ نوع کامل شرک کا نہ تھا۔صرف سطحی شرک میں لوگ مبتلا تھے۔جس سے بچنا زیادہ عقل نہیں چاہتا تھا اور بتوں کے آگے جھکنے یا نہ جھکنے کے مسئلہ کو ہر شخص سمجھ سکتا تھا۔لیکن ابراہیم کے وقت میں شرک ظاہری رسوم سے نکل کر باطنی رسومات کی حد تک پہنچ گیا تھا اور باوجود بتوں کے آگے نہ جھکنے کے بوجہ فلسفہ کی ترقی کے اور فکر کی بلندی کے ذہنی شرک کی ایک اور قسم پیدا ہوگئی تھی جس کا قلع قمع ابراہیم نے کیا۔ابراہیمی تحریک کا پیغام پس ایسے زمانہ میں جو موحد کامل ہوا چونکہ وہی مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ کے خطاب کا مستحق ہوسکتا تھا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ استعمال کئے الانعام: ۱۶۲ 75