انقلابِ حقیقی — Page 74
۔انقلاب حقیقی نبی تھا جس پر شریعت کا نزول ہوا اور تمدنی قواعد کو ایک با قاعدہ قانون کا رنگ چڑھایا گیا کیونکہ اس زمانہ میں انسانی دماغ ترقی کر کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ چکا تھا کہ اس کے لئے اس قسم کی رہنمائی کی ضرورت تھی۔چنانچہ حدیث میں جو آتا ہے کہ اَوَّلُ نَبِيِّ شَرَعَتْ عَلَى لِسَانِهِ الشَّرَائِع اس کے مضمون کا قرآن شریف سے بھی پتہ چلتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا او حَيْنَا إِلَيْكَ كَما أوحينا إلى نُوح والتَّبِينَ مِنْ بَعْدِه : کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم نے تیری طرف جو وحی نازل کی ہے یہ ویسی ہی وحی ہے جیسی وحی نوح اور اسکے بعد کے انبیاء کی طرف نازل کی گئی تھی۔گویا پہلی وحی عقائد کی نسبت نوح کو ہوئی تھی اور سب سے پہلے تفصیلات صفات الہیہ کا دروازہ اس پر کھولا گیا تھا کیونکہ اس وقت تک انسانی دماغ بہت ترقی کر گیا تھا اور اس نے صفات الہیہ کا ادراک کرنا شروع کر دیا تھا۔اور اس فکر میں ٹھو کر کھا کر اس نے شرک کا عقیدہ ایجاد کر لیا تھا۔چنانچہ شرک کا ذکر قرآن کریم میں نوح کے ذکر کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔پس نوح اوّل شارع نبی تھے۔ان معنوں میں کہ ان کے زمانہ میں انسان روحانیت کی باریک راہوں پر قدم زن ہونے لگ گیا تھا اور اُس کا دماغ مافوق الطبعیات کو سمجھنے کی کوششوں میں لگ گیا تھا۔تیسرا دور۔ابراہیمی تحریک اس کے بعد تیسرا دورا براہیم کا ہے۔گونوح کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے زمانہ میں شرک ہو چکا تھا اور اس نے شرک کو سختی سے روکا۔لیکن درحقیقت وہ دور صفات الہیہ کے احساس کا ابتدائی دور تھا اور شرک بھی صرف بسیط شکل میں تھا۔بعض النساء: ۱۶۴ 74