انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 76

انقلاب حقیقی گئے۔حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق استعمال نہ کئے گئے ورنہ یہ مطلب نہیں کہ نوح اعلیٰ موحد نہ تھا۔چنانچہ دیکھ لو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پانچ دفعہ قرآن شریف میں ذکر ہے اور پانچوں جگہ آپ کے متعلق وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشرکین کے الفاظ آتے ہیں لیکن نوح کے متعلق یہ الفاظ نہیں آتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گو اپنے زمانہ میں نوح نے شرک کا مقابلہ کیا مگر چونکہ کامل شرک اُس وقت رائج نہیں تھا اس لئے ومَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِکین کے نام سے آپ کو پکارنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ بوجہ عبادت اوثان سے اجتناب کرنے کے ہر شخص جانتا تھا کہ آپ مشرک نہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے سوئی سے ہر عورت کام کر سکتی ہے مگر ہر عورت درزی نہیں کہلا سکتی کیونکہ درزی کے لئے اپنے فن میں ماہر ہونا ضروری ہے۔اسی طرح نوح کے متعلق گو ہم کہتے ہیں کہ انہوں نے شرک کا مقابلہ کیا مگر ابراہیم کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ شرک کا مقابلہ آپ کا پیشہ اور فن بن گیا تھا اس لئے آپ کے متعلق کہا گیا کہ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِين غرض ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں علاوہ ظاہری شرک کے ایک اور شرک جو پہنی اور فلسفی تھا پیدا ہو گیا تھا۔اُس وقت صرف یہی شرک نہ رہا تھا کہ بعض لوگ بتوں کے آگے سر جھکاتے تھے بلکہ محبت اور بغض کی باریک راہوں پر غور کر کے انسانی احساسات بہت ترقی کر گئے تھے اور اب بغیر ظاہری شرک کرنے کے بھی انسان ذہنی طور پر مشرک ہوسکتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح کو یہ نہیں کہا کہ آسلیم اور اُس نے جواب میں کہا ہو اسْلَمْتُ لِرَبِّ العلمين بلکہ ابراہیم کو اللہ تعالی نے کہا آسلیم کہ میں تجھے صرف یہی نہیں کہتا کہ بُت کو سجدہ نہ کر بلکہ میں تجھے یہ بھی کہتا ہوں کہ تو اپنے دل کے خیالات بھی گئی طور پر میری اطاعت میں لگا دے اور ابراہیم نے جواب میں کہا اسلمت A TARANANDALANGUAGE AT کہ اے خدا ! میرے جسم کا ذرہ ذرہ تیرے آگے البقرة: ١٣٢ 76