انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 65

، انقلاب حقیقی ایک دوسرے معنوں کے محتاج رہتے ہیں۔تمدن کی حقیقت یہ بھی ظاہر ہے کہ دنیا میں تمدن کے معنی ہی یہ ہیں کہ خون اور فساد کی بعض جائز صورتیں پیدا کی جائیں۔چنانچہ دیکھ لوزید قتل کرتا ہے اور وہ دنیا کے نزدیک قاتل قرار پاتا ہے مگر جب اسی زید کو گورنمنٹ پھانسی دیتی ہے تو وہ قاتل نہیں بنتی بلکہ اس کا فعل جائز اور مستحسن سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح لوگ اگر کسی کے مکان یا جائداد پر قبضہ کر لیں تو سب کہیں گے یہ فسادی ہیں مگر گورنمنٹ ملکی ضرورت کے ماتحت اگر جائدادوں پر قبضہ کر لے تو یہ فعل لوگوں کی نظر میں جائز سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو حبس بے جا میں رکھے تو ی ظلم قرار دیا جاتا ہے۔لیکن گورنمنٹ اگر کسی کو نظر بند کر دے اور فردی آزادی میں دخل اندازی کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔پس جب خدا نے کہا کہ ہم دنیا کو متمدن بنانے والے ہیں اور ہم ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانے والے ہیں جو قانون نافذ کرے گا، جو قانون کے ماتحت بعض لوگوں کو قتل کی سزا دے گا ، جو قانون کے ماتحت بعض لوگوں کی جائدادوں پر زبر دستی قبضہ کرے گا، جو قانون کے ماتحت فردی آزادی میں دخل انداز ہوگا، تو چونکہ یہ ایک بالکل نئی بات تھی اس لئے فرشتوں نے اس پر تعجب کیا اور وہ حیران ہوئے کہ اس سے پہلے تو قتل کو ناجائز قرار دیا جاتا تھا مگر اب قتل کی ایک قسم جائز ہو جائے گی۔پہلے فسادکو ناجائز قرار دیا جاتا تھا مگر اب فساد کی ایک قسم جائز ہو جائے گی۔65