انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 66

۔انقلاب حقیقی یہ نقطہ نگاہ ابتدائی زمانہ کے لحاظ سے لوگوں کے لئے نہایت ہی اہم تھا بلکہ یہ اعتراض آج بھی دنیا میں ہو رہا ہے۔چنانچہ یورپ میں ایک خاصی تعدا دایسے لوگوں کی ہے جو پھانسی کی سزا کے مخالف ہے اور وہ اس کی دلیل یہی دیتے ہیں کہ جب کسی کو قتل کرنا ناجائز ہے تو حکومت کسی آدمی کو کیوں قتل کرتی ہے؟ حالانکہ حکومت صرف پھانسی ہی نہیں دیتی اور کئی قسم کے افعال جو بعض گناہوں سے شکل میں مشارکت رکھتے ہیں، حکومت کرتی ہے مثلاً ٹیکس لیتی ہے۔اور اگر پہلا خیال درست ہے تو یہ بھی کہنا پڑے گا کہ ٹیکس کی وصولی چونکہ ڈا کہ اور چوری کے مشابہ ہے اسے بھی ترک کر دینا چاہئے لیکن یہ لوگ ٹیکسوں پر اعتراض نہیں کرتے۔پس معلوم ہوا کہ ان لوگوں کا پھانسی پر اعتراض محض ایک وہم ہے اور قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔ابتدائی زمانہ میں چونکہ ابھی بادشاہت کا طریق جاری نہیں تھا دنیا تمدن سے کوسوں دور تھی اس لئے جب کوئی شخص کسی کو مارتا تو سمجھا جاتا کہ اس نے بہت بُرا کام کیا ہے۔جب وہ کسی کو لوٹتا تو ہر کوئی کہتا کہ یہ نہایت کمینہ حرکت کی گئی ہے۔مگر جب خدا تعالیٰ نے بادشاہت قائم کی اور یہ قانون جاری ہوا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے اُسے قتل کیا جائے تو لوگوں کو سخت حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہوا کہ ایک کے لئے مارنا جائز ہے اور دوسرے کیلئے ناجائز ، ایک کے لئے لوٹ کھسوٹ جائز ہے اور دوسرے کے لئے ٹوٹ کھسوٹ ناجائز۔گورنمنٹ ٹیکس لے لے تو یہ جائز ہومگر دوسرا کوئی شخص زبر دستی کسی کا روپیہ اُٹھالے تو اسے ناجائز کہا جائے۔گویا وہ سارے افعال جن کو بُراسمجھا جاتا ہے انہیں جب حکومت کرتی ہے تو اس کا نام تہذیب رکھا جاتا ہے اور کوئی ان پر بُر انہیں منا تا لیکن افراد وہی فعل کریں تو اُسے بُرا سمجھا جاتا ہے۔66