انقلابِ حقیقی — Page 64
۔انقلاب حقیقی جاتی ہے جو فساد کرتے ہوں ان کا قتل جائز سمجھا جاتا ہے اور تمام حکومتیں ایسا کرتی ہیں بلکہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔پس جب آدم کے خَلِيفَه فِي الْأَرْضِ بنانے کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا تو ملائکہ نے حکومت کے تمام پہلوؤں پر نظر کی اور ان کو یہ نئی بات معلوم ہوئی کہ قتل اور خون اور جنگ کی ایک جائز صورت بھی ہے اور آدم سے بعض دفعہ یہ افعال صادر ہونگے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں اس کا یہ فعل پسندیدہ سمجھا جائے گا نہ کہ بُرا اور چونکہ اس سے پہلے نظامِ حکومت کی مثال نہ تھی یہ امر فرشتوں کو عجیب معلوم ہوا۔اُسی طرح جس طرح بعض لوگ جو حقیقت حال سے واقف نہیں رسول کریم ﷺ کی جنگوں پر اعتراض کرتے ہیں یا بعض قتل کی سزاؤں پر اعتراض کرتے ہیں۔پس فرشتوں کا سوال آدم کے افعال ہی کے متعلق ہے جو وہ بحیثیت حاکم وقت کرنے والا تھا اور انہیں یہ امر عجیب معلوم ہوتا ہے کہ وہ افعال یعنی جنگ اور قتل جو پہلے گناہ سمجھے جاتے تھے اب ان کو بعض حالتوں میں جائز سمجھا جائے گا۔اور وہ کہتے ہیں۔الہی ! آپ ایک ایسا خلیفہ مقرر کرتے ہیں اور ایسے کام اس کے سپر د کرتے ہیں کہ جو پہلے ناجائز تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو جواب دیتا ہے کہ انِي أَعْلَمُ مَا لا تَعْلَمُونَ اتم نہیں جانتے کہ اس نظام میں کیا خوبیاں ہیں۔گو بظاہر حکومت کے قیام سے بعض قسم کے جبر کی اجازت دی جاتی ہے اور انفرادی آزادی میں فرق آتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی یہ جبر اور قواعد فرد کے لئے بھی اور قوم کے لئے بھی مفید ہوتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ جو معنی میں نے کئے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے التي أعلمُ مَا لا تَعْلَمُونَ کا فقرہ عبارت میں نہایت ہی عمدہ طور پر چسپاں ہو جاتا ہے اور دوسرے معنوں کے رو سے اس میں کسی قدر تکلف پایا جاتا ہے یا کم سے کم وہ معنی البقرة: ٣١ 64