انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 36

۔انقلاب حقیقی چونکہ مادیت پر ہے یعنی جزئیات کے تجربہ اور مشاہدہ پر اُن کے ہاں سب زور جزئیات پر ہے۔گلیات کو یا تو یہ لوگ مجزئیات سے اخذ کرتے ہیں یا پھر گلیات کے وجود ہی کولغو اور فضول قرار دے دیتے ہیں۔ایک یونانی طبیب ہر بیماری کو چاروں خلطوں میں محصور قرار دے کر کلیات طب سے مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔مگر ایک طبّ جدید کا ماہر ہر مرض کی مخصوص علامات کا پتہ لگا کر انہی مخصوص علامات کے مطابق اس کا علاج کرتا ہے۔اور قطعا اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ تمام امراض کو کسی خاص سلسلہ کی کڑی قرار دے۔جہاں تک معلومہ تاریخ کا تعلق ہے دنیوی تحریکوں میں سے یہی پانچ تحریکیں دُنیا میں نظر آتی ہیں اور تمام دنیا کی حکومتوں اور علوم اور تہذیبوں پر ان کا اثر معلوم ہوتا ہے۔باقی سب حکومتیں اور فلسفے ان کے تابع نظر آتے ہیں۔انہیں اگر ان سے اختلاف ہے تو جز وی ہے۔بعض فلسفے ان کے فلسفوں سے جُدا ہو کر بظاہر ایک نئی صورت اختیار کر گئے ہیں اور بعض بہت تھوڑے تغیر سے انہی فلسفوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔بڑی بڑی تحریکوں کی کامیابی کا سبب ان پانچوں تحریکوں کی کامیابی کی وجہ یہی تھی کہ ان کے ساتھ ایک پیغام تھا۔وہ صرف تلوار سے ملک کو فتح نہیں کرتے تھے بلکہ اس ملک کے ذہنوں کو بھی اپنا غلام بناتے تھے اس لئے جب ان کی حکومت تباہ بھی ہو جاتی تو ان کا فلسفہ تباہ نہ ہوتا اور وہی غلام اس فلسفہ کو لے کر دنیا میں حکومت کرنے لگ جاتے تھے اور اس طرح ایک ذہنی اور علمی تناسل کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ان تحریکوں کے بانی سنتِ الہی کے ماتحت کچھ عرصہ تک حکومت کر کے مٹ گئے مگر ان کی تحریکیں دیر تک قائم رہیں اور آج تک بھی ان میں سے کئی کا وجود خلطوں : خلط آمیزش۔ملاوٹ۔جسم کی چار خلطیں ، خون بلغم ،صفراء، سوداء 36