انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 35

۔انقلاب حقیقی ہے جس کی بنیا د مشاہدہ اور تجربہ پر ہے۔اسی فلسفہ کی وجہ سے مغربی تہذیب نے قومیت کا شدید احساس پیدا کرلیا ہے۔خالص قربانی انسان تبھی حاصل کر سکتا ہے جب وہ سمجھتا ہو کہ اس دُنیا کے علاوہ بھی کوئی اور دُنیا ہے اور اگر میں نے دوسروں کیلئے قربانی کی تو گوئیں اس دنیا کا نفع حاصل نہ کروں مگر مجھے روحانی فائدہ پہنچے گا لیکن جس کو یقین ہو کہ جو کچھ ہے یہی دُنیا ہے وہ کہتا ہے کہ جو کچھ ملے مجھے ہی ملے کسی دوسرے کو نہ ملے۔پس انتہائی نیشنلزم (NATIONALISM) مادیت کا نتیجہ ہے اور پھر اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ تعیش پیدا ہو جاتا ہے۔ہر قسم کے آرام کے سامانوں ، کھانے پینے اور پہننے کے سامانوں میں زیادتی کی خواہش بھی مادیت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ میں نے حاصل کرنا ہے اسی دُنیا میں حاصل کرنا ہے۔پس جو مزہ اُڑایا جا سکتا ہے اُڑا لو یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب نے تعیش کو کمال تک پہنچا دیا ہے۔رومن اور مغربی تہذیب میں فرق رومن تہذیب اور مغربی تہذیب میں یہ فرق ہے کہ رومیوں میں قانون کی حکومت تھی اور اس وجہ سے ان کا فلسفہ کلیات سے جزئیات کی طرف رجوع کرتا تھا۔چنانچہ رومی تہذیب اور فلسفہ میں میں یونانی تہذیب اور فلسفہ کو شامل سمجھتا ہوں۔فلسفہ کی تمام شاخیں اسی اصول کے تابع ہیں۔ان کی طب کو دیکھو اس کی بنیاد گلیات پر رکھی گئی ہے اور پھر اس سے جزئیات اخذ کی گئی ہیں۔ان کے فلسفہ الہیات کا بھی یہی حال ہے۔پہلے گلیات تجویز کر کے پھر مجزئیات کو ان سے اخذ کیا گیا ہے۔سیاست کا بھی یہی حاصل ہے کہ کچھ گلیات تجویز کر کے ان سے جزئیات کو اخذ کیا گیا ہے لیکن موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد 35