انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 37

۔انقلاب حقیقی مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ ہندوستان میں اب تک آرین تہذیب کا یہ اثر موجود ہے کہ برہمن اور کھتری ،شو در کو اپنے پاس تک پھٹکنے نہیں دیتے۔کچھ عرصہ ہو امدر اس کا ایک واقعہ بعض اخبارات نے بیان کیا تھا جو یہ ہے کہ ایک برہمن کے بیٹے نے کسی چمارن سے شادی کر لی۔ماں باپ نے اس کا گھر الگ کر دیا اور وہ علیحدہ اس چمارن کے ساتھ رہنے لگ گیا۔ایک دن ماں باپ نے کہا کہ اپنے بیٹے کا ایمان دیکھنا چاہئے کہ کہیں چہارن سے شادی کر کے اس کا دھرم تو نہیں جاتا رہا۔چنانچہ انہوں نے اسے ایک دن گھر میں بُلا کر خوب اچار کھلایا اور پانی کے جس قد رگھڑے تھے وہ یا تو توڑ پھوڑ دیئے یا کہیں چھپا کر رکھ دیئے۔جب اس نے خوب اچار کھالیا تو اُسے پیاس لگی مگر اس نے ادھر اُدھر دیکھا تو پانی موجود نہیں تھا اس لئے وہ پانی نہ پی سکا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔اس کا گھر ماں باپ کے گھر سے کوئی میل بھر دُور تھا۔وہاں دوڑا دوڑا پہنچا اور بیوی سے کہنے لگا مجھے سخت پیاس لگی ہوئی ہے پانی ہے تو پلاؤ۔وہ کہنے لگی پانی تو ہے مگر برتن میرا ہے اگر کہو تو اپنے برتن میں پانی پلا دوں؟ وہ کہنے لگا یہ تو دھرم کے خلاف ہے۔آخر جب پیاس سے اس کا بہت ہی بُرا حال ہوا اور اُس نے سمجھا کہ اب میں مرا جاتا ہوں تو بیوی سے کہنے لگا اپنے منہ میں پانی ڈال کر میرے منہ میں ڈال دے۔چنانچہ اس نے منہ میں پانی لیا اور اُس کے منہ میں گھی کر دی۔ماں باپ جو کہیں چُھپ کر یہ تمام نظارہ دیکھ رہے تھے دوڑتے ہوئے آئے اور اپنے بچہ سے یہ کہتے ہوئے چمٹ گئے کہ شکر ہے پر میشور کی دیاں سے ہمارے بچہ کا دھرم بھرشٹ کے نہیں ہوا۔یہ قصہ اسی گہرے نسلی تعصب کا ایک مضحکہ خیز ظہور ہے۔جو آرین تہذیب کی خصوصیات سے ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج تک اس تہذیب کے گہرے اثرات لے دیا : مہربانی ، رحم، شفقت سے گھر شف : نا پاک، بد، بُرا نجس ، گنده 37