انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 147

۔انقلاب حقیقی احیاء کے دو بڑے حصے ہیں۔ایک وہ جس کا تعلق حکومت سے ہے اور ایک وہ جس کا تعلق نظام سے ہے۔جو امور حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے اسلام کا یہ حکم ہے کہ چور کا ہاتھ کا ٹوٹ یا اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ قاتل کو ضروری نہیں کہ قتل ہی کیا جائے بلکہ وارثوں کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو اسے قتل کی سزا دلائیں اور چاہیں تو معاف کر دیں کے مگر یہ اسلامی حکم چونکہ حکومت سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے ہم انہیں ابھی جاری نہیں کر سکتے۔پھر اسلام نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جو شخص قاتل ہوا سے مقتول کے وارثوں کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ حکام کی زیر نگرانی چاہیں تو خود اسے قتل کریں لیکن اب گورنمنٹ قاتلوں کو خود پھانسی دیتی ہے اور وارثوں کے سپرد نہیں کرتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وارثوں کے دل میں پھر بھی کینہ اور بغض رہتا ہے اور وہ کسی اور موقع پر قاتل کے رشتہ داروں سے انتقام لینے کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن اگر اسلامی حکومت ہو تو گورنمنٹ کے افسروں کی موجودگی میں قاتل کو قتل کرنے کے لئے پہلا موقع مقتول کے رشتہ داروں کو دیا جائے گا۔ہاں اس بات کا لحاظ ضروری رکھ لیا جائے گا کہ فلا يُشرف في القتل سے قتل تو بیشک کرے مگر ظالمانہ رنگ میں قتل نہ کرے بلکہ قتل کے لئے جو قانون مقرر ہے اور جو طریق حکومت کا مجوزہ ہے اس کے مطابق قتل کرے اور اگر وہ کمزور دل والا ہو اور اپنے ہاتھ سے قتل کرنے کی ط وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (المائدة: ٣٩) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ بالأنثى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٍ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانِ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ (البقرة: ۱۷۹) بنی اسرائیل : ۳۴ 147