انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 148

انقلاب حقیقی محجرات نہ کرسکتا ہو تو گورنمنٹ کو کہہ سکتا ہے کہ میں قتل نہیں کرتا تم خود اسے قتل کروا دو۔اس طرح وہ بغض دور ہو جاتا ہے جو حکومت انگریزی کے فیصلوں کے باوجودلوگوں کے دلوں میں باقی رہ جاتا ہے اور آئندہ بہت سے فتنے پیدا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے۔پھر بعض دفعہ قاتل کو معاف کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے اور یہ صورت بھی مقتول کے رشتہ داروں کے اختیار میں ہوتی ہے لیکن بہر حال ان امور میں حکومت ہی دخل دے سکتی ہے عام لوگ دخل نہیں دے سکتے۔مگر شریعت کے بعض حصے ایسے ہیں کہ باوجود ان کے سیاسی اور نظام کے ساتھ متعلق ہونے کے گورنمنٹ ان میں دخل نہیں دیتی۔جیسے قادیان میں قضاء کا محکمہ ہے حکومت اس میں کوئی دخل نہیں دے سکتی کیونکہ اس نے خود اجازت دی ہوئی ہے کہ ایسے مقدمات کا جو قابلِ دست اندازی پولیس نہ ہوں آپس میں تصفیہ کر لیا جائے۔پس اسلامی شریعت کا وہ حصہ جس میں حکومت دخل نہیں دیتی اور جس کے متعلق حکومت نے ہمیں آزادی دی ہوئی ہے کہ ہم اس میں جس رنگ میں چاہیں فیصلہ کریں، ہمارا فرض ہے کہ اس حصہ کو ملی رنگ میں اپنی جماعت میں قائم کریں اور اگر ہم شریعت کے کسی حصہ کو قائم کر سکتے ہوں مگر قائم نہ کریں تو یقینا اس کے ایک ہی معنے ہوں گے اور وہ یہ کہ ہم شریعت کی بے حرمتی کرتے ہیں۔پس اب اس نہایت ہی اہم اور ضروری مقصد کے لئے ہمیں عملی قدم اٹھانا چاہئے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے اختیار میں رکھا ہو ا ہے اور جماعت کے کسی فرد کی کمزوری یا ٹھوکر کا کوئی لحاظ نہیں کرنا چاہئے۔اصلاح اعمال کا پہلا قدم عورتوں کو ورثہ دینا اس سلسلہ میں پہلا قدم ان امور کی اصلاح ہے جو ظاہر و باہر ہیں۔آج میں ان میں سے ایک امر آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اس کو اگر ہم اختیار کر لیں تو 148