انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 146

۔انقلاب حقیقی میں اسلام کی اصولی تعلیم یا اصولی تعلیم کی روشنی میں احکام ہوں۔۴۔جائز جبر چوتھے اس امر کی ضرورت ہے کہ شریعت کے اجراء میں جائز جبر جسے سیاست کہتے ہیں، اس سے کام لیا جائے اور اس امر کا کوئی خیال نہ کیا جائے کہ کسی کو ٹھوکر لگتی ہے یا کوئی ابتلاء میں آتا ہے۔سیاست کے معنی در حقیقت یہی ہیں کہ اجرائے شریعت کے باب میں جہاں ضرورت ہو اور جس حد تک اجازت ہو جبر سے کام لیا جائے اور علمائے اسلام نے اس پر کئی کتابیں لکھی ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جبر سے ماننے والوں کو جبر سے اسلامی احکام پر چلانے کا نام ہی سیاست ہے اور ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس جبر سے کام لیں۔جب ایک شخص ہمارے پاس آتا ہماری بیعت کرتا اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دیتا ہے تو لازم ہمارا حق ہے کہ اگر وہ کسی حکم پر چلنے میں سستی اور غفلت سے کام لے تو اس پر جبر کریں اور اسے اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اسلامی طریق عمل کو اختیار کرے کیونکہ وہ ہمارا ایک حصہ بنا ہو ا ہے اور اس کی بدنامی سے ہماری بدنامی ہے اور اس کی کمزوری سے ہمارے اندر کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ایسا جبر ہرگز ناجائز نہیں کیونکہ اس شخص نے اپنی مرضی سے ہم میں شامل ہو کر ہمیں اس جبر کا حق دیا ہے۔جس طرح کہ بورڈنگ میں داخل ہو کر ایک طالب علم اساتذہ کو خود اپنے پر جبر کا حق دیتا ہے اور کوئی اس پر اعتراض نہیں کرتا۔ہاں جو اسے نا پسند کرتا ہو وہ پورا آزاد ہے کہ اپنے آپ کو جماعت سے الگ کر لے۔شریعت کے احیاء کے دوحصے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ عملی قدم اٹھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ شریعت کے 146