انفاق فی سبیل اللہ

by Other Authors

Page 27 of 45

انفاق فی سبیل اللہ — Page 27

انفاق في سبيل الله محبوب کوئی چیز نہ پائی۔اس پر میں نے اسی وقت اس لونڈی کو آزاد کر دیا۔(حلیۃ الاولیاء جلد 1 صفحہ 295) حضرت عبداللہ بن عمررؓ کا واقعہ بھی عجیب ایمان افروز واقعہ ہے اور ان کے سچے جذبات کی خوب عکاسی کرتا ہے۔ایک دفعہ بیمار ہوئے اور مچھلی کھانے کو بہت دل چاہا۔لوگوں نے بڑی مشکل سے ایک مچھلی تلاش کی۔پکا کر ان کے سامنے رکھی۔ابھی ایک لقمہ بھی نہ لیا تھا که دروازہ پر ایک مسکین نے صدا دی۔آپ نے فوراً ساری کی ساری مچھلی اٹھا کر اسے دیدی۔لوگوں نے اصرار سے کہا کہ آپ مچھلی کھا لیں۔اس مسکین کو ہم رقم دے دیتے ہیں جس سے وہ اپنی ضرورت پوری کر لے گا لیکن حضرت عمر نے فرمایا کہ اس وقت میرے لیے یہی مچھلی سب سے زیادہ پسندیدہ اور مرغوب ہے اور میں اسے ہی صدقہ کروں گا۔(حلیۃ الاولیاء جلد 1 صفحہ 297) حضرت سلمان فارسی مدائن کے گورنر تھے۔ان کو بیت المال سے پانچ ہزار دینار ملتے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ رقم ملتے ہی ساری کی ساری راہِ خدا میں قربان کر دیتے اور اپنا گزارہ چٹائیاں بن کر چلاتے تھے۔الاستیعاب جلد 2 صفحہ 572) حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ اور حضرت اسماء 27