امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 9
12 11 بجائے اور زیادہ کر دیا۔لوگ قید خانہ میں امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔کام کیے جائیں۔مگر ایسا بھی تو ہوتا ہے نا کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی پیاری پیاری باتیں جن کا بچو! اب تو منصور بہت پریشان ہوا کہ یہ تو سب کام غلط ہوتا جا رہا ہے۔میں تو انہیں ہم اپنی عام زندگی میں بالکل خیال نہیں کرتے وہی چھوٹی چھوٹی اور پیاری پیاری باتیں اپنے راستے سے ہٹا رہا تھا اور یہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے راستہ بناتے جارہے ہیں۔انسان کو بڑا آدمی بنا دیتی ہیں۔مثلاً والدین کی خدمت، ہمیشہ سچ بولنا، دشمن کو معاف کر دینا، چنانچہ آخری تدبیر اس نے یہ کی کہ امام صاحب کو شربت میں زہر ملا کر دے دیا۔آپ کو پتہ راستہ میں سے کا نٹ ہٹا دینا، غریبوں کی مدد کرنا ، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا وغیرہ۔تو چل گیا تھا کہ اس میں زہر ہے۔آپ نے پینے سے انکار کر دیا تو زبر دستی وہ زہر کا پیالہ آپ کو جناب ہمارے پیارے امام ابو حنیفہ اتنے اچھے ، اتنے پیارے انسان تھے کہ باوجود اس کے پلایا گیا۔جب آپ نے محسوس کیا کہ زہر نے اپنا اثر کرنا شروع کر دیا ہے تو آپ سجدہ کہ آپ علم بھی حاصل کرتے تھے ، تجارت بھی کرتے تھے مگر بچپن ہی سے یہ ساری پیاری میں گر گئے اور اسی حالت میں اپنی جان اپنے پیارے مولیٰ کے سپرد کر دی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پیارے بچو! ہمارے حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ نے فرمایا ہے کہ ر جسم مرسکتا ہے لیکن اعلیٰ مقصد کو لے کر اٹھنے والی روح نہیں مرسکتی۔“ پیاری عادتیں آپ میں موجود تھیں۔آپ کو اپنی والدہ محترمہ سے بہت محبت تھی۔آپ نے تمام زندگی ان کی بہت زیادہ خدمت کی۔امام صاحب کی والدہ مزاج کی بہت ھنگی تھیں۔اس زمانے میں کوفہ میں ایک عالم عمرو بن ذکر تھے۔وہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کیا کرتے تھے۔امام ابوحنیفہ کی والدہ ان سے بہت عقیدت رکھتی تھیں۔انہیں جب کوئی مسئلہ تم نے دیکھا کہ منصور نے اپنے ناپاک منصوبہ سے امام اعظم کو زہر کا پیالہ پلوا دیا مگر پیش آتا تو وہ امام صاحب سے کہیں جاؤ اُن سے اس مسئلہ کا حل پوچھ کر آؤ۔اکثر بعد میں اس نے خود دیکھا کہ امام اعظم زہر کا پیالہ پی کر اگر چہ جسمانی طور پر وفات پاگئے ایسا ہوتا تھا کہ عمرو بن ذر امام صاحب سے اس مسئلہ کا حل پوچھ کر بتایا کرتے تھے۔اب تھے مگر اپنے عمل، نیک مقاصد اور حق و صداقت کی وجہ سے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ دیکھو کہ امام صاحب اتنے بڑے عالم دین تھے۔ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ان کے ہیں۔آج بھی لوگ ان کا نام بہت عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔قرآن وسنت کی روشنی عقیدت مند تھے لیکن جب ان کی والدہ ان سے کہتیں کہ مجھے عمر و بن ذر کے پاس لے جاؤ میں آپ نے جو اسلامی فقہی قانون ترتیب دیا وہ آج بھی حنفی فقہ“ کے نام سے موجود میں خود ان سے اس مسئلہ کا حل پوچھوں گی۔تو آپ انہیں خچر پر سوار کرا کے ساتھ لے ہے۔تم مسلمان حاکم ہارون الرشید کے نام سے تو ضرور واقف ہو گے۔اس کی سلطنت جو جاتے۔خود پیدل چلتے تھے۔سندھ سے لے کر ایشیائے کو چک تک پھیلی ہوئی تھی حنفی فقہ کے اصولوں پر ہی قائم تھی۔اس کے زمانے کے تمام مقدمات اور فیصلے اسی قانون کی بنیاد پر ہی کیے جاتے تھے۔بچو ! تم سوچتے ہو گے کہ حضرت ابوحنیفہ اتنے بڑے آدمی کیسے بن گئے؟ دیکھو بچو! یہ بات ٹھیک ہے کہ بڑا آدمی بننے کے لیے ضروری ہے کہ بہت بڑے بڑے یہ تو تمہیں معلوم ہے کہ امام صاحب نے کبھی بھی حکومت کی طرف سے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ابن ہبیرہ نے امام صاحب کو میر منشی مقرر کرنا چاہا۔آپ نے انکار کر دیا تو اُس نے سزا کے طور پر آپ کو کوڑے لگوائے۔بچو! اس وقت آپ کی والدہ زندہ تھیں۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی تکلیف کا