امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 10
14 13 ذرا بھی احساس نہیں تھا۔مگر اس بات سے تکلیف ہوتی تھی کہ میری وجہ سے میری والدہ کے حضرت امام ابو حنیفہ کا قرآن کریم سے عشق کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔قرآن کریم سے بے پناہ محبت اور اس کی ایک ایک آیت پر غور و فکر کی وجہ سے حضرت اقدس علیہ السلام امام اعظم کے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔امام صاحب کی اپنی والدہ سے محبت اور ان کی خدمت کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا بارے میں فرماتے ہیں:۔میں بھی آپ کو عزت بخشی اور آخرت میں بھی آپ سے راضی ہوا۔حضرت امام ابوحنیفہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بہت پیار اور توجہ کے ساتھ کرتے تھے۔یزید بن لمیت ، امام صاحب کے ایک ساتھی تھے۔آپ بتاتے ہیں کہ ایک دن میں نے اور امام صاحب نے عشاء کی نماز مسجد میں ایک ساتھ پڑھی۔اس دن نماز میں یہ سورۃ پڑھی گئی تھی۔إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا۔بچو! تم اس سورۃ کا ترجمہ تو جانتے ہی ہو گے نا کہ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ہوشیار کیا ہے کہ تم نے جو نیک کام کیے ہیں اور جو بُرے کام کیے ہیں ان کا بدلہ ضرور ملے گا۔نماز پڑھنے کے بعد سب لوگ واپس چلے گئے۔لیکن امام صاحب اپنی جگہ پر بیٹھے رہے۔میں نے سوچا کہ اگر میں یہاں بیٹھا رہا تو آپ کی توجہ بٹ جائے گی۔اس لیے میں چراغ و ہیں چھوڑ کر چلا گیا۔صبح ہوئی میں نماز پڑھنے کے لیے مسجد گیا تو دیکھا کہ امام صاحب اسی حالت میں بیٹھے ہیں۔آپ نے اپنی ریش مبارک پکڑی ہوئی ہے اور کہتے جاتے ہیں کہ:۔”اے وہ ذات! جو لوگوں کو ذرہ ذرہ نیکیوں کا بدلہ دے گا اپنے نعمان کو آگ سے محفوظ رکھ اور اپنی رحمت میں چھپالے۔“ وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں۔“ الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد نمبر 4 صفحہ 101) ایک اور جگہ تحریر فرماتے ہیں :۔امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم وفراست میں آئمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور اُن کی خدا داد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدر کہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔اسی وجہ سے اجتہاد واستنباط میں اُن کے لیے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 385 ) بچو! امام صاحب کے خوف خدا اور اس کے ادب اور احترام کے بارے میں ان کی زندگی کی ایک بہت ہی دلچسپ بات میں تمہیں بتاتی ہوں۔پتہ ہے! امام صاحب نے کبھی اپنے سر کو نگا نہیں رکھا اور کبھی آپ نے سوتے وقت بچو! امام ابوحنیفہ کو قرآن کریم سے بہت زیادہ محبت تھی۔اللہ میاں نے آپ کو آواز پاؤں نہیں پھیلائے۔آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا ادب اور اس کا خوف ہر حالت میں کرنا بھی بہت اچھی دی تھی۔جب آپ قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو آپ کی آواز لوگوں کے چاہیے۔دل میں اُتر جاتی تھی۔ہماری جماعت کے بانی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کو اب دیکھونا ! سر کے اندر کا جو حصہ ہے وہاں تو خدا تعالیٰ کی پیاری کتاب قرآن کریم کا