امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

by Other Authors

Page 8 of 14

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ — Page 8

10 9 منصور چاہتا تھا کہ جتنے بھی عالم لوگ ہیں وہ میرے دربار میں آئیں۔انہیں سرکاری عہدے پھر ان لوگوں کی طرف توجہ کی جنہوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔منصور کو علم تھا کہ امام صاحب بھی دیے جائیں گے۔مثلاً یہ کہ علمائے کرام کو قاضی کا عہدہ دیا جائے گا مگر فیصلہ وہی ہو گا جو نے نہ صرف ان لوگوں کی حمایت کی بلکہ پیسہ سے بھی ان کی مدد کی ہے۔منصور کوفہ آیا لیکن وہ خود چاہے گا۔اسے یہ بھی معلوم تھا کہ کوفہ میں امام صاحب سے محبت اور عقیدت رکھنے والے لوگ ہزاروں یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا تھا کہ ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں تھا جس کے مطابق کی تعداد میں موجود ہیں۔اس لیے اس نے یہ چال چلی کہ امام صاحب کو کوفہ سے بغداد حکومت کے فیصلے کیے جاتے۔امام اعظم نے جب یہ تمام حالات دیکھے تو اس موقع پر اپنی سمجھ بلایا جائے۔پھر آپ کو قاضی کا عہدہ پیش کیا جائے۔جسے وہ ہرگز قبول نہیں کریں گے پھر اور ذہانت سے کام لیا اور انسانی ضروریات کے متعلق ایک اسلامی قانون قرآن اور سنت حاکم کے حکم کا انکار کرنے کی صورت میں انہیں آسانی کے ساتھ قید و بند میں ڈالا جا سکے گا۔کی روشنی میں قائم کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم تھا کہ اس نے امام اعظم کو اس عظیم جب منصور نے اپنے منصوبہ کے تحت امام صاحب کو بغداد بلوایا تو آپ ساری بات سمجھ دینی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔گئے۔آپ سمجھ گئے تھے کہ اب آزمائش کا وقت آگیا ہے۔آپ نے لوگوں کی امانتیں ان کے ابو جعفر منصور کے دورِ حکومت میں اس کے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف مدینہ میں محمد بن حوالے کیں اور بغداد تشریف لے گئے۔منصور نے انہیں قاضی کا عہدہ پیش کیا۔آپ نے انکار عبداللہ نے حاکم ہونے کا دعویٰ کیا۔محمد بن عبد اللہ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کر دیا اور اس کی یہ وجوہات بیان کیں۔ا۔میں عربی النسل نہیں ہوں۔اس لیے اہل عرب کو میری حکومت پسند نہیں آئے گی۔۲۔درباریوں کی تعظیم کرنا پڑے گی اور یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا۔جب آپ کسی بھی صورت میں نہیں مانے تو منصور نے آپ کو جیل میں ڈلوا کر کوڑوں کی بہادر اور دلیر تھے۔جب آپ نے حاکم ہونے کا دعویٰ کیا تو امام اعظم نے ان کی حمایت کی۔کوفہ کے لوگ بھی ان کے ساتھ ہو گئے۔ابتداء میں محمد بن عبد اللہ نے نہایت بہادری اور دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا۔آخر کا رشہید ہو گئے۔اس کے بعد ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ نے ان کی جگہ لی۔ابراہیم بھی بہت بڑے عالم تھے۔کوفہ کے تقریباً ایک لاکھ آدمی سزا کا حکم دیا۔ان کے ساتھ جان دینے کو تیار ہو گئے۔انہوں نے ڈٹ کر نہایت بہادری کے ساتھ منصور کا مقابلہ کیا۔مگر حلق میں تیر لگ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔دیکھو بچو! خدا تعالیٰ کے ہر فعل میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے۔منصور یہ چاہتا تھا کہ میں امام صاحب کو قید میں ڈال کر اتنی تکالیف دوں کہ وہ حق وصداقت کا راستہ چھوڑ کر امام ابو حنیفہ نے منصور کے خلاف محمد بن عبد اللہ اور ابراہیم بن عبد اللہ کا ساتھ اس میری مرضی پر چلنے لگیں لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ امام صاحب کو قید و بند میں ڈالنے سے ان لیے دیا کہ آپ نے سفاح کی حکومت کا زمانہ دیکھا پھر ابوجعفر منصور کے ظلم اور اس کی کی شہرت میں اور اضافہ ہو جائے گا اور لوگ پہلے سے بھی زیادہ ان کی عزت کرنے لگیں زیادتیوں کو دیکھا۔آپ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ حکومت کے اہل نہیں ہیں۔گے۔امام صاحب کی شہرت صرف کوفہ میں ہی نہیں تھی بلکہ بغداد میں بھی ایک علمی جماعت پھر ایسا ہوا کہ جب منصور نے محمد بن عبد اللہ اور ابراہیم بن عبد اللہ کو شکست دے دی تو ایسی تھی جو آپ سے عقیدت رکھتی تھی۔قید و بند کی حالت نے آپ کے اثر کو کم کرنے کی