امام مہدی کا ظہور — Page 25
۲۵ احمدیوں کے قریب کر دیا ہے اور امام مہدی کو امام محمد بن حسن عسکری کا بروز قرار دے کر امام مہدی کے ظہور کی حقیقت پر روشنی ڈال کر شیعہ اصحاب کے لئے احمدیت کا قبول کرنا اور اس تحریک میں شامل ہو جانا بہت آسان کر دیا ہے۔امام مہدی کا نام " القائم اس لئے رکھا گیا ہے۔لأَنَّهُ يَقُومُ بَعْدَ مَا يَمُوت : دبحار الانوار جلد ۱۳ مت) یعنی۔وہ مرنے کے بعد کھڑا ہو گا۔اس میں امام مہدی کو دراصل وفات پا جانے والے امام محمد بن حن عسکری کا بروز بی قرار دیا گیا ہے کیونکہ مرنے کے بعد اس دنیا میں پہلے لوگوں کی رجعت بروزی ہی ہو سکتی ہے۔از روئے قرآن مجید رجعت اصالت محال ہے۔چنانچہ کتاب انجم الشاب جلد احث سے امام محمد بن حسن عسکری کی وفات ثابت ہے اس جگہ ایک گردہ کایہ مشاہدہ درج ہے کہ امام صاحب موصوف نے وفات پائی اور ان کا جنازہ پڑھا گیا اور دہ مدینتہ الرسول میں دفن کئے گئے۔پس موت کے بعد کسی پہلے امام کا دوبارہ ظہور بروزی صورت میں ہی متصور ہو سکتا ہے۔النجم الثاقب طلاء کی ایک اور روایت میں امام مہدی کے متعلق یہ الفاظ وارد ہیں:۔لَوْنَهُ يَوْن عَرْبيٌّ وَ جِسْمُهُ جِسْمُ إِسْرَائِيلَ اس روایت کا ترجمہ اس جگہ النجم الثاقب میں یہ لکھا گیا ہے :۔رنگش زنگ عربی است و جسمش چون جیم اسرائیلی یا - یعنی مہندی کا رنگ تو رویوں جیسا ہو گا اور اس کا جسم اسرائیلیوں جیسا ہوگا۔امام مہدی کے جسم کا اسرائیلیوں کے جسم کی طرح ہونا اس بات پر روشن دلیل ہے کہ وہ