علم تعبیر الّرؤیا اور اس کے عجائبات

by Other Authors

Page 6 of 40

علم تعبیر الّرؤیا اور اس کے عجائبات — Page 6

بزرگان اُمت میں سے حضرت علامہ ابن سیرین نے منتخب الكلام اور تعبیر الرویا الصغیر میں قطب الزمان شیخ العارفین حضرت عبدالغنی نابلسی نے " تعطیہ الا نام میں حضرت ابو المفضل حسین ابراہیم محمد تغلیبی نے کامل التعبیر میں حضرت جابر مغربی نے محتاب ارشاد میں حضرت ابراہیم کرمانی نے کتاب دستور میں حضرت اسمعیل بن اشعت اور حضرت حافظ بن اسحان ” نے "مختاب تعبیر" میں اور حضرت خالد اصفهانی " نے کتاب منہاج التعبیر" میں نہایت قابل قدر معلومات جمع کر دی ہیں۔اور ان کی یہ علمی جد و جہد آئندہ نسلوں کو گراں بار احسان رکھے گی کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں جبکہ خلافت کا بابرکت نظام جو علم تعبیر کی رُو سے خانہ کعبہ کی مثالی شکل میں دکھلایا جاتا ہے۔تعبیر الرویا الصغير از علامہ ابن سیرین ، صفحہ ہستی سے معدوم ہو چکا تھا اور تاریکی سی چھا گئی تھی اس آسمانی علم کے چراغ روشن رکھے۔مگر یہ حقیقت ہےاور کوئی عالم ربانی اس سے انکار نہیں کریں کتا کہ عہد حاضر میں اس علم کے اندر بھی بہت تغیر ہو چکا ہے۔دنیا کا نقشہ بدل چکا ہے۔انسانی قلوب و دماغ اور ارواح زمانہ کے نئے سے نئے افکار وخیالات اور فلسفوں کی زد میں ہیں اور خصوصا فرانس کے صنعتی انقلاب اور جمہوریت اور دہریت کے اُبھرنے والے سیلاب کے سامنے پہلے علوم ہیچ نظر آتے ہیں اور زمانہ بین الاقوامی سطح پر تقاضا کر رہا ہے کہ کوئی خدا کا فرستادہ اور برگزیدہ زندہ خدا کی زندہ تجلیات کی از سر نو چہرہ نمائی کرے اور