علم و عمل — Page 13
23 22 ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک غزوہ کے موقع پر نصف مال پیش کر دیا ہے کہ انہوں نے۔در حقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔“ اور سوچا کہ میں اس میدان میں سب پر سبقت لے گیا ہوں۔تھوڑی دیر میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ آئے اور اپنا سارا مال پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں ( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 315) اس فدائی انسان کا نمونہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک موقعہ پر اپنے گھر کا سارا میں ڈھیر کر دیا۔مسابقت کی یہ دلفریب ادا ئیں ان فدائیوں نے کہاں سے سیکھیں ؟ سازوسامان فروخت کر کے تین سو روپے حضور کی خدمت میں پیش کر دیے۔اُس ان کے معلم ، ہمارے معلّم اور کل جہان کے معلم اور ساری دنیا کے لئے اسوۂ حسنہ زمانہ کے لحاظ سے یہ بہت بڑی قربانی تھی۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے ایک ہمارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اخلاق فاضلہ کے ہر میدان میں مجلس میں اس پر اظہار خوشنودی فرمایا کہ میاں شادی خان نے تو اپنا سب کچھ پیش ہمیشہ سب سے آگے اور سب کے لئے بہترین نمونہ تھے۔کر دیا۔میاں شادی خان صاحب نے سنا تو سیدھے گھر گئے۔ہر طرف نظر دوڑائی اس دور آخرین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی دبستان محمد سے یہ سارا گھر خالی ہو چکا تھا صرف چند چار پائیاں باقی تھیں۔فوری طور پر ان سب کو بھی اخلاق سیکھے اور اُن پر ایسا عمل کر کے دکھایا کہ آپ کے در پر دھونی رما کر بیٹھنے والوں فروخت کر ڈالا اور ساری رقم لا کر حضور کے قدموں میں ڈال دی اور حضور کے منہ میں بھی یہی اخلاق فاضلہ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ابتدائی زمانہ کی بات ہے حضرت سے نکلی ہوئی بات لفظاً لفظاً پوری کر دی۔میسیج پاک علیہ السلام کو ایک اشتہار شائع کرنے کے لئے ساٹھ روپے کی ضرورت انفاق فی سبیل اللہ کی توفیق کسی انسان کو تب ملتی ہے جب اس کو تو کل علی اللہ کی تھی۔آپ نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی سے فرمایا کہ ضرورت فوری نعمت نصیب ہوئی ہو۔اس تعلق میں حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کا ہے کیا ممکن ہے کہ آپ کی جماعت اس ضرورت کو پورا کر سکے؟ حضرت منشی صاحب خوبصورت نمونہ یا درکھنے کے لائق ہے۔آپ کے صاحبزادے حضرت صاحبزادہ پیر نے حامی بھر لی اور تھوڑی دیر میں مطلوبہ رقم لا کر حضور کی خدمت میں پیش کر دی۔چند افتخار احمد صاحب بیان کرتے ہیں۔روز بعد حضرت منشی اروڑے خان صاحب ملنے آئے اور حضور نے کپورتھلہ جماعت کا شکریہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے بروقت مدد کی اس پر یہ راز کھلا کہ منشی ظفر احمد صاحب نے تو جماعت کے کسی دوست سے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔صرف اپنی بیوی کا زیور بیچ کر فوری طور پر جماعتی ضرورت پوری کر دی تھی ! کتنی جان شاری اور کتنی خاکساری اور کتنی بے نفسی ہے اس ایک واقعہ میں۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے واقعہ سے مجھے دور آخرین کے حضرت میاں شادی خان صاحب کی یاد آئی۔سیالکوٹ کے لکڑی فروش بہت متوکل انسان تھے۔تنگدست تھے لیکن دل کے بادشاہ۔ان کے بارہ میں مسیح پاک علیہ السلام نے فرمایا ” ہمارے گھر میں خرچ نہ تھا۔میرے والد صاحب نے میری والدہ سے پوچھا، آتا ہے؟ کہا نہیں۔مال ہے؟ جواب نفی میں ملا۔ایندھن ہے؟ وہی جواب تھا۔جیب میں ہاتھ ڈالا۔صرف دو روپے تھے فرمانے لگے۔اس میں تو اتنی چیزیں پوری نہیں ہوسکتیں۔اچھا میں ان دو روپوں سے تجارت کرتا ہوں۔وہ دو روپے کسی غریب کو دے کر خود نماز پڑھنے چلے گئے۔راستہ میں اللہ تعالیٰ نے دس روپے بھیج دیے۔واپس آکر فرمایا۔”لو میں تجارت کر آیا ہوں۔اب سب چیزیں منگوالو۔اللہ کی راہ میں