علم و عمل — Page 14
25 24 66 مال دینے سے گھٹتا نہیں، بڑھتا ہے۔“ بڑھیا نے خوش ہو کر کہا۔خدا آپ کو جزا دے، امیر المومنین بننے کے اہل تو آپ ہیں ( انعامات خداوند کریم صفحہ 221-222 تصنیف حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی) نہ کہ عمر۔حضرت عمرؓ کی عظمت کردار دیکھئے اور خاموش خدمت کا حسین انداز دیکھئے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور غم خواری اسلام کی ایک بنیادی تعلیم ہے۔کہ بڑھیا کو ندامت سے بچانے کے لئے آپ نے بڑھیا پر یہ راز نہ کھولا کہ وہ عمر تو دوسروں کے آرام کا خیال رکھنا اور ان کی خاطر خود تکلیف اُٹھا کر ان کے آرام کا میں ہی ہوں۔عاجزی اور خاکساری سے سر جھکا کر رخصت ہو گئے۔خیال رکھنا بہت ہی عمدہ خلق ہے۔ہر شخص دل میں یہ نیک جذبات اور ارادے تو حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے زمانے کی بات ہے۔ایک دفعہ بہت رات گئے ضرور رکھتا ہے لیکن جب تک ان ارادوں کو عمل میں نہ ڈھالا جائے اس وقت تک اس ایک مہمان آ گیا۔اس وقت گھر میں کوئی چار پائی خالی نہ تھی۔سب سو رہے تھے۔فرض کا حق ادا نہیں ہوتا۔یہ میدان بہت وسیع ہے اور اس خلق کو اپنی زندگیوں میں حضور نے مہمان سے کہا کہ ذرا ٹھہریں میں ابھی انتظام کرتا ہوں۔آپ یہ فرما کر جاری کرنے کے بے شمار انداز ہیں۔میں چند مثالیں عرض کرتا ہوں۔ذرا دیکھیں کہ اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے اور پھر دیر تک باہر تشریف نہ لائے مہمان نے یہ مثالیں ہم سب کے لئے دعوت عمل کا کتنا زور دار پیغام اپنے اندر رکھتی ہیں۔سوچا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں اس وقت چار پائی کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا اس لئے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو جب اللہ تعالیٰ نے خلیفہ مقرر فرمایا تو آپ واپس نہیں آئے۔اتنے میں اس نے ایک نظارہ دیکھا اور حیرت کی تصویر بن آپ کو دوسروں کے آرام اور ضروریات کا اتنا خیال رہتا کہ آپ راتوں کو عموماً گشت گیا۔اس نے ڈیوڑھی میں سے گھر کے اندر جھانک کر دیکھا کہ اندر صحن میں ایک کیا کرتے اور براہ راست یہ معلوم کرتے کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے صاحب جلدی جلدی چار پائی بن رہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اپنے ہیں۔ایک رات یہ نظارہ دیکھا کہ ایک عورت کھانا پکا رہی ہے اور بچے اس کے پاس دست مبارک میں مٹی کا ایک دیا پکڑے اُس کے پاس کھڑے ہیں۔تھوڑی دیر میں بھوک کی شدت سے چلا رہے ہیں پوچھا کہ بچوں کو کھانا کیوں نہیں دیتی ؟ تو کہنے لگی چار پائی تیار ہوئی تو وہ اس مہمان کو پیش کر دی گئی۔یہ نظارہ دیکھ کر مہمان کی عجیب کہ ہنڈیا میں کھانا نہیں ، پتھر ڈالے ہوئے ہیں اور بھوکے بچوں کو بہلانے کی کوشش حالت تھی۔عرق ندامت میں غرق کہ میں نے آدھی رات کو حضور علیہ السلام کو اس کر رہی ہوں۔حضرت عمر پر یہ دیکھ کر کپکپی طاری ہوگئی۔بڑھیا اور بچوں کی حالت قدر تکلیف دی۔اُدھر حضرت مسیح علیہ السلام کا خلق دیکھئے کہ آپ بار بار اس مہمان دیکھ کر اپنی ذمہ داری کے حوالے سے ندامت میں ڈوب گئے۔فورا واپس آئے اور سے معذرت خواہ ہیں کہ معاف کرنا چار پائی لانے میں بہت دیر ہوگئی۔بیت المال سے کھانے کے سامان کی بوری تیار کی غلام سے کہا کہ اسے اُٹھا کر میری انسان اپنے لئے ، اپنے بیوی بچوں کے لئے دعائیں کرتا ہے۔دوسروں کے لئے بھی کمر پر رکھ دو۔غلام کہنے لگا کہ امیر المومنین آپ کیوں اٹھاتے ہیں میں اس خدمت دعائیں کرنے کی توفیق ملتی ہے کہ یہ بھی اسلامی تعلیمات میں شامل ہے لیکن دوسروں کے لئے حاضر ہوں۔فرمایا دنیا میں تو تم یہ بوجھ میرے لئے اُٹھا سکتے ہو لیکن قیامت کے لئے دعا کرنے کا جو واقعہ میں ذکر کر نے لگا ہوں کم لوگوں نے سنا ہو گا اور بہت کے روز تم میرا کوئی بوجھ نہیں اُٹھا سکتے ! امیر المومنین نے بوری اپنی کمر پر اٹھائی۔تھوڑے ہوں گے جو کبھی خود اس کیفیت سے گزرے ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح بڑھیا کے گھر لائے۔کھانا تیار ہوا اور بچوں نے کھایا اور بڑے مزے کی نیند سوئے۔الاول کے زمانے کا واقعہ ہے۔چوہدری حاکم دین صاحب بورڈنگ کے ایک ملازم