اِعجاز المسیح — Page 75
اعجاز المسيح ۷۵ اردو ترجمہ بحارهما۔ثم إن ذات الله تعالى دو صفتوں کے انوار میں داخل ہیں اور انہی کے كما اقتضت لنفسها أن تكون سمندروں کا قطرہ ہیں۔پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی لنوع الإنسان محبوبة ومُحبة ذات اپنے لئے نقاضا کرتی ہے کہ وہ نوع انسان كذالك اقتضت لعباده الكُمّل کے لئے محبوب ہو اور محب بھی۔اسی طرح أن يكونوا لبنی نوعهم كمثل اُس نے اپنے کامل بندوں کے لئے یہ چاہا ہے کہ ذاته خُلُقًا وسيرة ويجعلوا وہ بھی بنی نوع انسان کے لئے خُلق اور سیرت میں هاتين الصفتين لأنفسهم لباسًا وكسوةً۔ليتخلّق العبودية بأخلاق اُس کی ذات کی مانند ہوں اور وہ ان دونوں صفتوں کو اپنے لئے لباس و پوشاک بنا ئیں تا کہ الربوبية۔ولا يبقى نقص في عبودیت ربوبیت کے اخلاق اپنا لے اور انسانی النشأة الإنسانية۔فخلق النبيين والمرسلين فجعل بعضهم نشوونما میں کوئی نقص باقی نہ رہ جائے۔اسی لئے مظهر صفته الرحمان وبعضهم اللہ نے نبیوں اور مُرسلوں کو پیدا فرمایا اور ان میں مظهر صفته الرحيم ليكونوا سے بعض کو اپنی صفت رحمان کا مظہر بنایا اور بعض کو محبوبين ومحبين ويُعاشروا اپنی صفت رحیم کا مظہر ، تا کہ وہ بھی محبوب اور ۹۹ بالتحابب بفضله العظيم۔فأعطى مُحبّ بن جائیں اور اُس کے فضلِ عظیم کے ساتھ بعضهم حظا وافرا من صفة ایک دوسرے سے باہمی محبت سے زندگی بسر المحبوبية۔وبـعـضًا آخر حظًا کریں۔سو اُس نے بعض کو صفت محبوبیت سے وافر كثيرا من صفة المُحبيّة۔وكذالك أراد بفضله العميم۔وجوده القديم۔ولما جاء زمن حصہ عطا فر مایا اور بعض کو صفت محبیت سے کثیر حصہ عطا فرمایا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے اپنے وسیع فضل اور دائمی کرم سے ارادہ فرمایا۔اور پھر جب خاتم النبيين۔وسيدنا محمد سيد المرسلين۔أراد هو سبحانه خاتم النبیین اور سید المرسلین سیدنا محمد ﷺ کا أن يجمع هاتين الصفتين فی زمانہ آیا تو اللہ سُبحَانَہ نے ارادہ فرمایا کہ وہ نفس واحدة۔فجمعهما في ان دونوں صفتوں کو ایک نفس میں جمع کر دے۔سواس