اِعجاز المسیح — Page 74
اعجاز المسيح ۷۴ اردو تر جمه مواسيا يُتدارك عند الأهوال پراگندگی احوال میں اس کی مدد کو پہنچے۔اور فطرت وتشتت الأحوال۔ويحفظها من كو اعمال کے ضیاع سے بچائے۔اور اُسے اُس کی ضيعة الأعمال۔ويوصلها إلى تمناؤں تک پہنچائے۔پس اللہ نے چاہا کہ جس کا الآمال۔فأراد الله أن يُعطيها ما فطرت تقاضا کرتی ہے اُسے وہ عطا فرمائے اور اپنی اقتضتها ويتم عليها نعمه بجوده وسیع عطاء سے اُس پر اتمام نعمت کرے۔اس العميم۔فتـجـلّـى عليها بصفتيه الرحمن والرحيم۔ولا ريب ۹۸ بين الربوبية والعبودية۔و بهما لئے اُس نے اپنی دو صفتوں الرحمن اور الرَّحِیم کے ساتھ اس پر تجلی فرمائی۔اس میں کوئی أن هاتين الصفتين هما الوصلة شک نہیں کہ یہ دونوں صفتیں ربوبیت اور عبودیت يتم دائرة السلوك والمعارف کے درمیان ایک واسطہ ہیں اور ان دونوں کے الإنسانية۔فكل صفة بعدهما ذریعہ سلوک اور انسانی معارف کا دائرہ مکمل ہوتا داخلة في أنوارهما۔وقطرة من ہے۔پس ان کے علاوہ باقی تمام صفات انہی الحاشية۔قد عرفت ان الله بصفة الرحمن ينزل على كل عبد من الانسان والحيوان والكافر و حاشیہ۔تو جانتا ہے کہ اللہ اپنی صفت رحمن کے ساتھ ہر انسان ، حیوان ، کافر اور مومن بندے پر اهل الايمان انواع الاحسان والامتنان بغير عمل يجعلهم مستحقين في حضر الديان۔اذ اپنے گونا گوں احسانات اور نوازشیں نازل فرماتا ہے۔اُن کے کسی عمل کے بغیر جو جزا سزا کے مالک کی بارگاہ میں انہیں لاشك ان الاحسان على هذا المنوال يجعل المحسن محبوبا في الحال فثبت ان ان کا مستحق بنادے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طریق پر احسان کرنا محسن کو فوراً محبوب بنادیتا ہے۔پس ثابت ہوا الافاضة على الطريقة الرحمانية۔يظهر في اعين المستفيضين شان المحبوبية۔واما صفة کہ رَحْمَانِیت کے طریق پر فیض رسانی فیض پانے والوں کی نگاہوں میں اُس کی شان محبوبیت ظاہر کرتی ہے اور جو الرحيمية۔فقد الزمت نفسها شان المحبّية فان الله لا تتجلى على احد بهذا الفيضان رحیمیت کی صفت ہے تو اس نے اپنے آپ کو شان مُحبیت سے لازم کر لیا ہے۔پس اللہ مومنوں میں سے کسی الا بعد ان يحبه ويرضى به قولا و فعلا من اهل الايمان۔منه ایک پر اس فیضان کی تجلی صرف اُس وقت فرماتا ہے جب وہ اُس سے محبت کرے اور قولاً وفعلاً اس پر راضی ہو۔منہ سہو کتابت ہے درست یتجلی ہے۔(ناشر)