اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 163

اِعجاز المسیح — Page 39

اعجاز المسيح ۳۹ اردو ترجمہ فتنتشر كلماتهم انتشرار ان کے کلمات تو محض پراگندہ ٹڈیوں کی طرح الجراد۔ ولكني سألت الله منتشر ہوتے ہیں لیکن میں وہ ہوں کہ اللہ سے جو فأعطاني۔ وجئته عطشان مانگا وہ اُس نے مجھے عطا فرمایا۔ میں اُس کے پاس فرواني۔ فنحن الموفّقون پیاسا آیا اُس نے مجھے سیراب کر دیا۔ ہم اللہ سے ونـحـن الـمـؤيـدون تـواتـيـنـا توفیق یافتہ اور تائید یافتہ ہیں۔ قلم ہمارا ایسا ساتھ الأقلام۔ كأنها السهام دیتے ہیں گویا وہ تیر و شمشیر ہوں ہمیں اپنے رب أوالحسام۔ ولنا من ربنا كلام تام سے کلام تام اور گھنا سایہ میسر ہے۔ جو چادر بھی ہم وظل ظليل۔ فكل رداء نرتديه زیب تن کریں وہ خوبصورت لگتی ہے ۔ ہماری وہ جميل۔ ولنا جبلة لا تبلغها فطرت ہے کہ جس تک پہاڑوں کو بھی رسائی نہیں ۔ الجبال۔ وقوّة لا تُعجزها اور وہ قوت حاصل ہے کہ جسے بڑے سے بڑا بوجھ الأثــقــال۔ وحال لا تُغيّـرهــا بھی عاجز نہیں کر سکتا۔ ہماری وہ شان ہے کہ جسے احوال زمانہ بدل نہیں سکتے اور ہمارا وہ رب ہے کہ جس کی بارگاہ سے امیدیں رد نہیں کی جاتیں ۔ الأحوال ۔ و رب لا تُرَدّ من حضرته الآمال۔ فحاصل الكلام أني من الله وكلامي من حاصل کلام یہ کہ میں اللہ کی طرف سے ہوں اور میرا هذا العلام۔ وإني كتبت دعواى کلام بھی اُسی علام خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے ودلائلها في هذا الكتاب۔ لا سعف الخصم بحاجته وأنجيه اس کتاب میں اپنا دعوی اور اس کے دلائل تحریر کئے ہیں تاکہ میں اپنے مد مقابل کی حاجت روائی كان يدعوني إلى المباحثات ۔ کروں اور اُسے اضطراب سے نجات دلاؤں ۔ کیونکہ بعد ما دعوته لنمق التفسير في بعد اس کے کہ میں نے اُسے پیرایہ بلاغت اور استعارات کے محاسن میں تفسیر لکھنے کی دعوت دی من الاضطراب۔ فإن الخصم حلل البلاغة ومحاسن الاستعارات۔ فلما لويت عذارى وہ مد مقابل مجھے مباحثات کیلئے بلانے لگا۔ پھر وتصديت لاعتذاری من جب میں نے مناظرات سے روگردانی کی اور اپنا ۵۱