اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 163

اِعجاز المسیح — Page 26

اعجاز المسيح ۲۶ اردو ترجمہ بقى منك من تحميدك۔ گئی تھی اسے تیری تائید میں تیرے دوستوں نے کمله صحبك في تأييدك۔ پورا کر دیا اور تیری تعریف کے ترانے گائے گئے وأنشد الأشعار في ثنائك۔ وما اور تیری مدح سرائی میں مبالغہ آمیزی کا کوئی دقیقہ تُرك دقيقة في إطرائك۔ ثم فروگذاشت نہ کیا گیا ۔ پھر تجھے رفعت و بلندی ستوني وحقروني بعد رفعك وإعلائك۔ وكانوا لا يلاقون أحدا ولا يوافون رجلا إلا دینے کے ساتھ انہوں نے مجھے گالیاں دیں اور میری تحقیر کی ۔ وہ جن سے بھی ملتے یا جن سے بھی ان کا سامنا ہوتا ان کے پاس میرا ذکر استخفاف سے ويذكرونني عندهم استخفافا ۔ کرتے ہیں ۔ انہوں نے غیبت کر کے میرا گوشت و أكلوا لحمى بالغيبة فما أكلوا إلا سما زعافا۔ فلما بلغت کھایا اور ایسا کر کے دراصل انہوں نے خود زہر ہلاہل إهانتهم منتهاها۔ و كلمنی کھایا ۔ جب ان کی اہانت اپنی انتہاء کو پہنچ گئی اور كلمهم بمداها ۔ ووصل الأمر ان کی باتوں کی چھریوں نے مجھے زخمی کیا اور معاملہ إلى مداها ۔ ورأيتُ أنهم جاروا اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور میں نے دیکھا کہ انہوں نے كل الجور۔ وأثاروا كالثور۔ ہر قسم کا ظلم ڈھایا ہے اور بیل کی طرح غبار اڑایا ہے وتركوا طريق الانصاف۔ اور انصاف کی راہ چھوڑ دی ہے اور علم کا رویہ اپنایا ا ۳۴ وسلكوا مسلك الاعتساف ۔ ہے اور بیہودہ گوئی اور بکواس کی کثرت ہوگئی ہے۔ وكثر الهذر والهذيان۔ وملئت بكلمات السب القلوب والآذان۔ اور اس دشنام دہی سے دل اور کان بھر گئے ہیں اور ریب اور و كذبت خیالات آوارہ ہو گئے ہیں معارف کی تکذیب وتاهت الخيالات وكـ جاہلانہ باتوں کی تصدیق کی گئی ہے تو میرے دل المعارف وصدقت الجهلات۔ أُلقي في روعي أن أُنجي العامة میں یہ ڈالا گیا کہ عوام الناس کو ان لوگوں کی غلط بیانیوں من أغلوطاتهم۔ وأُطفئ بقول سے بچاؤں اور ان کی بکواس کے نتیجہ میں بھڑکائی فيصل ما سعروا بترهاتهم۔ ہوئی آگ کو قول فیصل کے ذریعہ سرد کروں