اِعجاز المسیح — Page 25
اعجاز المسيح ۲۵ اردو تر جمه وما قصدت لاهور إلا لطمع تو نے صرف عوام الناس کی تعریفوں کے لالچ میں في محامد العامة۔ولِتُعَدّ فى لاہور کا قصد کیا تا کہ مال اور دھونس کے زور سے أعينهم من حمـاة الـمـلة۔ومن تمہارا شمار ان کی نگاہوں میں حامیان ملت اور مواسي الدين و معالجى هذه دین کے ہمدردوں اور اس غم کے چارہ سازوں ۳۲) 1 الغمة ببذل المال والهمة میں ہو۔اور اس اقدام سے تو زبانوں کی ملامت ولعلك تامن بهذا القدر سے امن میں آجائے اور تجھ پر بد انجام اور عتاب حصائد الألسنة، ولا ترهق مسلط نہ کیا جائے۔تا لوگ یہ سمجھیں کہ گویا کہ تم بالتبعة والمعتبة۔وليحسب لكنت كے عیب سے پاک ہو اور سخنوروں کے الناس كأنك مُنزّه عن معرة در میان تم نامرد نہیں اور تاکہ عوام کالانعام یہ اللكن۔ولست کعنین فی رجال خیال کریں کہ تمہیں ہر قسم کا علم دیا گیا ہے اور قسما اللسن۔وليظن العامة الذين هم قسم کے علمی انعامات سے نوازے گئے ہو اور تمہیں كالأنعام۔أنك رُزقت من كل ایسی بصیرت دی گئی ہے جو عرفان کی انتہا تک علم و أنعمت من أنواع الإنعام پہنچتی ہے اور ایسی اصابت رائے دی گئی ہے جو وأعطيت بصيرة تُدرك منتهى دائرہ بیان کو مکمل کرتی ہے۔اور تمہیں ایسا فہم العرفان۔وإصابة تُكمّل دائرة نصيب ہے جو ہر کجی اور سرکشی سے روکنے والا ہے البيان۔و فهما كفهم ذوّاد عن اور ایسی عقل دی گئی ہے جو برہان کے پرندوں کو الزيغ والطغيان۔وعقلا کبازی باز کی طرح شکار کرتی ہے اور ایسا نطق عطا کیا گیا يصيد طير البرهان۔ونطقًا مُؤيّدًا ہے جو روشن دلائل قاطعہ سے تائید یافتہ ہے اور بالحجج القاطعة المنيرة اليسا نفس جو قسم قسم کے معارف اور حسن باطن سے ونفسًا مُتحلّية بأنواع المعارف آراستہ ہے اور ایسی توفیق عطا کی گئی ہے جو رُشد و وحسن السريرة۔وتوفيقًا قائدًا ہدایت کی جانب لے جاتی ہے اور ایسا الہام دیا ۳۳) إلى الرشد والسداد۔وإلهاما گیا ہے جو رب العباد کے غیر سے بے نیاز کر مغنيا عن غير رب العباد۔ثم ما دے۔پھر خودستائی میں جو اپنی طرف سے کمی رہ