اِعجاز المسیح — Page 27
اعجاز المسيح ۲۷ اردو تر جمه وأكتب التفسير وأُرى الصغير اور میں تفسیر لکھوں اور اس طرح ہر چھوٹے بڑے کو والكبير أنهم كانوا كاذبين۔یہ دکھا دوں کہ وہی لوگ جھوٹے ہیں۔وماحملنی علی اس مگار کے جھوٹ کے پول کھولنے کے مقصد ذالك إلا قصد إفشاء كذب نے ہی مجھے اس ( تفسیر نویسی) پر آمادہ کیا ہے هذا المكار۔فإنه مكر مكرًا کیونکہ اس نے ایک بہت بڑا فریب کیا اور یہ ظاہر كُبَّارًا وأظهر كأنه من العلماء کیا کہ وہ اکابر علماء میں سے ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ الكبار۔وادعى أنه يعلم القرآن۔وہ قرآن کا علم رکھتا ہے اور وہ اپنے ہم پلہ علماء پر فوقیت رکھتا ہے اور وقت آگیا ہے کہ وہ غالب ہو وفاق الأقران۔وحان أن يغلب ويُعان۔والغرض من تفسيرى اور اُس کی مدد کی جائے۔میری اس تفسیر کی اصل هذا تفريق الظلام والضياء۔وإراءة تضوّع المسك بحذاء غرض ظلمت اور ضیاء کے درمیان فرق کرنا اور بیابان کے مردار کے مقابلہ پر مشک کی مہک کو جيفة البيداء۔وإظهار خدع پھیلانا ہے۔نیز ایک دھوکے باز کے دھوکے کو الخادع ومواسات الرجال ظاہر کرنا ، مردوں اور عورتوں کے ساتھ ہمدردی کرنا والنساء و الاشفاق على العمى اور اندھوں اور حرص و ہوا کی پیروی کرنے والوں پر و متبعى الأهواء۔وقضاءُ خطب شفقت کرنا بھی اس تفسیر کا مقصد ہے۔ایسے اہم كان كحق واجب و دين لازم لا يسقط بدون الأداء۔فهذا كام كو سرانجام دینا ایک ایسا حق واجب اور ایسا هو الأمر الداعي إلى هذه لازم قرض تھا جو ادا کئے بغیر ساقط نہیں ہوتا۔یہ وہ الدعوة۔مع قلة الفرصة ليكون اصل سبب ہے جو عدیم الفرصتی کے باوجود اس تفسير الفرقان فرقانا بين أهل دعوت کا محرک ہوا تا کہ فرقانِ حمید کی تفسیر ہدایت الهدى وأهل الضلالة ولولا یافتہ اور گمراہ لوگوں کے درمیان امتیاز کر دے۔اگر التصلّف وتطاول اللسان۔وإظهار اس بزدل کی طرف سے شجاعت کا اظہار، زبان شجاعة الجنان من هذا الجبان۔درازی اور لاف زنی نہ ہوتی تو میں اس کی لغویات