اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 163

اِعجاز المسیح — Page 20

۲۶ اعجاز المسيح اردو تر جمه الله وما رأيت بعينيك جو اللہ آپ کو دکھائے اور جسے آپ کی آنکھیں وكذالك كانت جماعتی مشاہدہ کریں۔اور اس طرح میری جماعت کے يمنعوننی ویردعوننی افراد مجھے روکتے اور منع کرتے رہے اور باصرار ويُصرون على ويكفوننی۔حتی روکتے رہے یہاں تک کہ میں نے اپنا ارادہ بدل تلويت عما نويتُ۔وحُبّب إلى لیا۔مجھے ان کا مشورہ پسند آیا تو میں نے اسے قبول رأيهم فقبلت وما أبيتُ کر لیا اور انکار نہ کیا اور میں نے جو ارادہ کیا تھا وتركت ما أردت وطويت اسے ترک کر دیا اور اپنے قصد سے اعراض کیا۔الكشح عما قصدت۔ثم طفق اس پر میرے مخالفوں نے اُس کی مدح سرائی المخالفون يمدحونه على فتح شروع کردی کہ اُس نے میدان مارلیا ہے اور علم و (٢٦) الميدان۔ويطيـرونـه من غير معرفت کے پروں کے بغیر اسے اونچا اڑانے لگے۔جناح العرفان۔وكانوا يكذبون وہ جھوٹ بولتے تھے اور حیا نہیں کرتے تھے ولا يستحيون۔ويتصلّفون ولا لاف زنی کرتے اور تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔افترا يتقون۔ويفترون ولا ينتهون۔باندھتے اور باز نہیں آتے۔اُس ( مہر علی ) کی وينسبون إليه بحار محامد نسبت تعریفوں کے ایسے پل باندھتے کہ جن کا وہ ما استحقها۔وأبكار معارف مستحق نہیں۔اور انہوں نے ایسے اچھوتے معارف استرقها۔وكانوا يسبونني كما اُس کی طرف منسوب کئے جن کا وہ مالک نہ هي عادة السفهاء۔ويذكروننی تھا۔اور جیسا کہ نادانوں کا وطیرہ ہے وہ مجھے گالیاں بأقبح الذكر وبالاستهزاء۔دیتے اور میرا ذکر فتیح اور تمسخرانہ انداز سے کرتے ويقولون إن هذا الرجل هاب تھے اور کہتے تھے کہ یہ شخص ہمارے پیر سے ہیبت زدہ شيخنا وخاف۔وأكله الرعب اور خائف ہے اور اس سے مرعوب ہوکر میدانِ مباحثہ فما حضر المصاف۔وما تخلف میں نہیں نکلا اور یہ امر عظیم سے ڈرنے اور خوف ما إلَّا لخطب خشى وخوف غشی طاری ہونے کی وجہ سے بھی گریز کر رہا ہے۔