اِعجاز المسیح — Page 21
اعجاز المسيح ۲۱ اردو ترجمه ولو بارز لكلمه الشيخ بأبلغ اگر وہ مقابلہ میں آتا تو ہمارا پیرا اپنے نہایت بلیغ الكلمات۔وشجّ رأسه بكلام هو | كلمات سے اُسے زخمی کر دیتا اور اپنے سنگ صفت كالصفات فى الصفات کلام سے اس کا سر توڑ دیتا۔اسی طرح وہ بیہودہ وكذالك كانوا يهذرون۔کلامی کرتے تھے اور مجھ سے استہزاء کرتے اور مجھے گالیاں دیتے تھے۔بخدا میں اپنے نفس کو ويستهزء ون بى ويسبّون۔ووالله لا أحسب نفسى إلا | مدفون میت کی طرح خیال کرتا ہوں یا ویران گھر کی طرح۔لوگ مجھے کچھ شے سمجھتے ہیں حالانکہ میں كميةٍ تُرْبَ۔أو كبيتٍ خُرّبَ۔لاھے محض ہوں۔میں تو اپنے رب کے سائے کی والناس يحسبونني شيئًا ولستُ طرح ہوں۔میری کیا مجال تھی کہ میدانِ مباحثہ بشيء۔وما أنا إلا لربّي كفىء۔وما كان لي أن أبارز وأدعو۔میں نکلوں اور دشمنوں کو للکاروں لیکن اللہ نے مجھے اس جنگ کے لئے نکالا۔جب میں نے تیر چلایا تو العدا۔ولكن الله أخرجني لهذا میں نے نہیں چلایا اللہ نے چلایا۔میرا ایک قادر و توانا الوغى۔وما رميت إذ رميت حبیب ہے اور اس کی اعانت میرے لئے کافی ہے ولكن الله رمى۔ولى حِبِّ قدير میں مر چکا تو میری تجہیز و تکفین کے بعد وہ میرا وإعانته تكفيني۔ومن فظهر محبوب مجھ میں ظاہر ہوا اور میرے مرنے کے بعد الحب بعد تجهیزی و تکفینی۔اس نے مجھے باغ و بہار جیسا کلام مرحمت فرمایا اور ووهب لي بعد موتی کلاماً ایسا سخن عطا کیا جو اس پانی سے بھی زیادہ صاف و كالرياض۔و قولا أصفى من ماء شفاف ہے جو سنگریزوں والی زمین پر رواں ہو اور يسيح في الرضراض۔وحجة ایسی محبتِ بالِغہ عنایت کی جو ایک جان لیوا ناگ کی بالغة تلدغ الباطل كالنضناض طرح باطل کو ڈستی ہے اور یہ سب کچھ میرے رب و كلها من ربي وما أنا إلَّا خاوى كى طرف سے ہے میں تو تہی دامن ہوں۔اور مجھے الوفاض۔وأُمرت أن أنفق هذه يه حکم دیا گیا ہے کہ میں ہر خاص و عام پر یہ ۲۷