اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 163

اِعجاز المسیح — Page 19

اعجاز المسيح ۱۹ اردو تر جمه الفور۔فلما رأيت أنهم حسبوا نویسی کے لئے ہی یہاں آیا ہے۔چنانچہ جب میں الدودة ثعبانا والشّوكة بستانا۔نے یہ دیکھا کہ لوگ اس کیڑے کو اثر دھا اور کانٹے قلت في نفسي ان نذهب إلى كو باغ تصور کر رہے ہیں تو میں نے اپنے دل میں کو لاهور فأى حرج فيه۔لعل الله یہ کہا کہ اگر ہم بھی لاہور چلے چلیں تو اس میں حرج يفتح بيننا ويسمع الناس ما ہی کیا ہے شاید اللہ ہمارے درمیان کوئی فیصلہ فرما يخرج من فينا وفيه۔فشاورت دے اور لوگ ہمارے اور اُس کے منہ سے نکلی ہوئی صحبتي في الأمر۔وكشفت باتیں سن لیں۔اس پر میں نے اس بارے میں عندهم عن هذا السرّ۔اپنے رفقاء سے مشورہ کیا اور اس راز کو اُن پر ظاہر و استطلعت ما عندهم من کیا۔اور اُن کی رائے دریافت کی اور اُن کے الرأى۔وسردت لهم القصة من سامنے شروع سے آخر تک تمام قصہ بیان کیا اس پر المبادي إلى الغای فقالوا لا انہوں نے کہا کہ آپ کا لا ہور جانا ہمارے نزدیک نرى أن تذهب إلى لاهور۔وإن مناسب نہیں۔وہ شہر تو فتنوں اور جو روجھا کا گڑھ هو إلا محلّ الفتن والجور۔وقد ہے اور یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ اس نے شرائط قبول تبين أنه ما قبل الشروط وأری نہیں کیں اور اُس نے اپنی کمزوری اور بے بسی (۲۵) الضمور والمقوط و تشخط درماندگی دکھا دی ہے۔وہ خود اپنے خون میں لت پت بـدمــه ومـا رأى سبيل الخلاص ہے اور اُس نے فرار ہی میں اپنی راہ نجات دیکھی إلَّا الشحوط۔وهمط وغمط ہے۔اُس نے ظلم کیا اور نعمت کی ناقدری کی۔اس وما ذبح كبش نفسه وما سمط نے اپنے نفس کے دُنبے کو نہ تو ذبح کیا نہ اُس کے وما قمط۔وإنا سمعنا أنه ما جاء پاؤں باندھ کر لڑکا یا نہ کھال اتاری۔ہم نے سنا ہے بصحة السنية۔وليس فيه رائحة کہ وہ وہاں نیک نیتی سے نہیں آیا اور اس میں من صدق الطوية۔هذا ما رأينا صدق دل کا شائبہ تک نہیں۔یہ ہمارا مشورہ ہے اور والأمر إليك۔والحق ما أراك فيصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔حق صرف وہی ہوگا