اِعجاز المسیح — Page 103
اعجاز المسيح ۱۰۳ اردو تر جمه الناس قوم أطالوا الألسنة غیب کے اسرار پر اطلاع پائے بغیر آپ پر زبان وصـالوا عليه بالهمز و تجسس درازی کی اور نکتہ چینی اور عیب جوئی کرتے ہوئے الـعـيــب۔غـيـر مطلعین علی سر آپ پر حملہ آور ہوئے۔اور کتنے ہی ایسے ہیں الغيب۔وكم من ملعون في جن پر زمین میں لعنت کی جاتی ہے لیکن آسمان پر الأرض يحمده الله فی السماء اللہ اُن کی تعریف کرتا ہے اور کتنے ہی ایسے ہیں۔وكم من مُعظم في هذه الدار جن کی اس جہان میں بڑی تعظیم کی جاتی ہے لیکن يهان في يوم الجزاء۔ثم هو جزاء سزا کے روز وہ ذلیل کئے جائیں گے۔پھر اللہ سبحانه أشار في قوله رَبِّ سُبْحَانَہ نے اپنے قول رَبِّ الْعَلَمِينَ میں الْعَالَمِينَ إلى أنه خالق كل اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ہر شے کا خالق ہے شيء وأنه يُـحـمـد فی السماء اور اس کی آسمان اور زمینوں میں تعریف کی جاتی والأرضين۔وأن الحامدين كانوا ہے اور اس کی تعریف کرنے والے اس کی تعریف علی حمـده۔دائمین و علی پر مداومت اختیار کرتے اور اُس کی یاد میں دھونی ذكرهم عاكفين۔و إن من شيء رمائے بیٹھے ہیں۔ہر چیز ہر وقت ہی اس کی (۱۳۴) إلَّا يُسَبِّحه ويحمده في كل تسبیح اور حمد کرتی ہے اور جب کوئی بندۂ خدا حين۔وإن العبد إذا انسلخ عن اپنی خواہش نفس کو تیاگ دیتا ہے اور اپنے جذبات إراداته وتجرّد عن جذباته۔سے خالی ہوکر اللہ اور اُس کی راہوں اور اسکی وفني في الله وفي طرقه عبادات میں فنا ہو جاتا ہے۔نیز اپنے اُس رب کو وعباداته۔و عرف ربه الذی پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات سے اس کی رباه بعناياته۔حمده في سائر پرورش فرمائی تو وہ اس کی ہر وقت حمد کرتا اور أوقاته وأحبّه بجميع قلبه بل سارے دل بلکہ تن کے ایک ایک ذرہ کے ساتھ بجميع ذراته۔فعند ذالك هو اس سے محبت کرتا ہے۔تب اُس وقت وہ عالمین عـالـم مـن العالمين۔ولذالك میں سے ایک عالم ہو جاتا ہے۔وہ