اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 163

اِعجاز المسیح — Page 104

اعجاز المسيح ۱۰۴ اردو تر جمه سُمّى إبراهيم أمة في كتاب اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو أعلم العالمين۔ومن العالمين أَعْلَمُ الْعَالَمِین خدا کی کتاب میں اُمت کا نام دیا زمان أرسل فيهم خاتم النبيين گیا اور پھر عالمین کا ایک زمانہ وہ تھا جس میں ان وعــالــم آخــر فيـه یـأتـی الله لوگوں میں خاتم النبیین بھیجے گئے اور ایک دوسرا عالم بآخرين من المؤمنين۔في آخر الزمان رحمة على الطالبين وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ متلاشیان حق پر رحم فرماتے ۱۳۵ وإليه أشار فی قولہ تعالی ہوئے آخری زمانہ میں مؤمنین میں آخرین کو لائے نَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ " گا۔اسی طرف اللہ تعالیٰ کے قول لَهُ فأومأ فيه إلى أحمدين وجعلهما الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ مِیں من نعمائه الكاثرة۔فالأوّل منهما أحمد المصطفى اشارہ ہے۔اس میں دو احمدوں کی طرف اشارہ کیا ورسولنا المجتبى۔والثاني ہے۔اور ان دونوں احمدوں کو اپنی بے پایاں نعمتوں أحمد آخر الزمان الذى سُمّی میں شمار کیا ہے۔ان دونوں میں اول ہمارے رسول مسیحا ومهديا من الله المنّان۔احمد مصطفی اور مجتبی ہیں اور دوسرے احمد آخر وقد استنبطت هذه النكتة من الزمان ہیں۔جس کا خدائے منان نے مسیح اور مہدی قوله الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ " رکھا اور یہ نکتہ میں نے خدا کے قول وعرفت أن العالمين عبارة عن فليتدبر من كان من المتدبرين۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ سے استنباط کیا کل موجود سوى الله خالق ہے پس ہر غور و فکر کرنے والے کو غور وفکر کرنا چاہیئے۔الأنام۔سواء كان من عالم تمہیں معلوم ہے کہ عالمین سے مراد مخلوق کے پیدا الأرواح أو من عالم الأجسام۔کرنے والے خدا کے سوا تمام موجودات ہیں خواہ وہ وسواء كان من مخلوق عالم ارواح سے ہوں یا عالم اجسام سے۔خواہ وہ ١٣٦ الأرض أو كالشمس والقمر نام زمینی مخلوق سے ہوں یا اجرام فلکی میں سے جیسے شمس وغيرهما من الأجرام۔فكل من العالمين داخل تحت وقمر وغیرہ۔پس تمام عالم حضرت باری کی ربوبیت لے ابتدا اور آخرت (دونوں) میں تعریف اسی کی ہے۔(القصص: ۷۱) الفاتحة: ٢