اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 163

اِعجاز المسیح — Page 97

اعجاز المسيح الباب الرابع في تفسير الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ۹۷ چوتھا باب اردو ترجمہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کی تفسیر کے بارے میں إعلم أن الحمد ثناء على الفعل واضح ہو کہ حمد وہ تعریف ہے جو کسی شخص کے الجميل لمن يستحق الثناء ۔ اچھے فعل پر کی جاتی ہے جو اس تعریف کا مستحق ہو ومدح لمنعم أنعم من الإرادة اور لفظ مدح اس انعام کرنے والے کے لئے وأحسن كيف شاء ۔ ولا يتحقق ہے جو بالا رادہ انعام کرتا اور جیسے چاہے احسان کرتا حقيقة الحمد كما هو حقها إلا ہے۔ اور حقیقت حمد كَمَا حَقَهُ صرف اُسی للذي هو مبدء لجميع الفيوض ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا منبع ہو اور علی وجہ البصیرت احسان کرے البصيرة لا من غير الشعور ولا نہ غیر شعوری طور پر نہ ہی کسی مجبوری سے۔ اور یہ معنی صرف اور صرف خدائے خبیر و بصیر میں پایا جاتا والأنوار۔ ومحسن على وجه من الاضطرار۔ فلا يوجد هذا المعنى إلا في الله الخبير وله الحمد في هذه الدار حمد ۱۲۵ ہے ۔ وہی محسن ہے کہ اول اور آخر تمام احسانات البصير۔ وإنه هو المحسن ومنه اُسی کی جناب سے ظہور میں آتے ہیں۔ اس جہاں المنن كلها في الأول والأخير۔ اور اُس جہ س جہاں میں حقیقی اُسی کے شایان ۱۲۶ شان ہے اور جو بھی تعریف دوسروں کی طرف وتلك الدار۔ وإليه يرجع كل حمد ينسب إلى الأغيار۔ ثم إن منسوب کی جاتی ہے اس کا تمام تر اصل مرجع وہی لفظ الحمد مصدر مبنی علی ہستی ہے۔ اس آیت میں لفظ حـــمـــد خدائے المعلوم والمجهول۔ وللفاعل ذو الجلال کی طرف سے مصدر ہے جو معروف اور والمفعول ۔ من الله ذي الجلال مجہول دونوں پر مبنی ہے۔ اور فاعل اور مفعول