اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 163

اِعجاز المسیح — Page 98

اعجاز المسيح ۹۸ اردو ترجمہ ومعناه أن الله هو محمد و هو دونوں کے لئے مستعمل ہے۔مفہوم اس کا یہ ہے کہ أحمد على وجه الكمال الله ہی عَلى وَجْهِ الکمال محمد اور احمد ہے والقرينة الدالة على هذا البيان اور اس بیان پر دلالت کرنے والا قرینہ یہ ہے کہ أنه تعالى ذكر بعد الحمد صفاتا اللہ تعالیٰ نے حمد کے بعد ان صفات کا ذکر فرمایا تستلزم هذا المعنى عند أهل ہے جو اہلِ عرفان کے نزدیک اس مفہوم کو مستلزم العرفان۔والله سبحانه أوما في ہیں۔اللہ سُبْحَانَہ نے حمد کے لفظ میں اُن لفظ الحمد إلى صفات توجد صفات کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس کے ازلی نور في نوره القديم۔ثم فسّر الحمد میں پائی جاتی ہیں۔پھر اس نے لفظ حمد کی تفسیر وجعله مخدّرة سَفَرَتْ عن کی اور اسے ایک ایسی پردہ نشین دلہن کی صورت وجهها عند ذكر الرحمان میں پیش کیا جو رحمن اور رحیم کے ذکر کے موقع پر والرحيم۔فإن الرحمان يدل على اپنے چہرے سے نقاب اٹھاتی ہے کیونکہ رحمان کا أن الحمد مبنى على المعلوم۔لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ لفظ حـــمـــد ١٢٧ والرحيم يدل على المجهول كما لا يخفى على أهل العلوم۔وأشار الــلــه سبحانه في قولـه رَبِّ الْعَالَمِينَ" إلى أنه هو السموات والأرضين۔ومن مصدر معروف ہے اور اسی طرح رحیم کا لفظ حمد کے مصدر مجہول ہونے پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں۔اور اللہ سُبحَانَہ تعالیٰ نے اپنے ނ قول رب العالمین میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے خالق كل شيء ومنه كلما في کہ وہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور جو آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے وہ سب اُسی کی طرف العالمين ما يوجد في الأرض من زمر المهتدین وطوائف ہے۔اور زمین میں جو ہدایت یافتہ لوگوں کے گروہ الـغـاويـن والـضــالين۔فقد يزيد اور بھٹکے ہوئے اور گمراہوں کے گروہ پائے جاتے عالم الضلال والكفر والفسق ہیں وہ سب عالمین میں شامل ہیں۔کبھی ایسا ہوتا وترك الاعتدال حتى يملأ ہے کہ ضلالت ، کفر فسق اور بے اعتدالی کا عالم اتنا