اِعجاز المسیح — Page 93
اعجاز المسيح ۹۳ اردو تر جمه المسيح الموعود تحت اسم مظہر جلال ہے کے ظل تلے داخل کیا۔اور مسیح أحمد الذى هو مظهر الجمال۔موعود كو اسم احمد جو مظہر جمال ہے کے ظلّ کے وما وجد هؤلاء هذه الدولة إلا تحت رکھا۔ان سب نے یہ دولت بطور ظلیت حاصل بالظلية۔فإذن ما ثُمَّ شريك علی کی۔چنانچہ علی وجہ الحقیقت اس مقام پر کوئی شریک الحقيقة۔وكان غرض الله من نہیں۔ان دو ناموں کی تقسیم سے اللہ تعالیٰ کی یہ۔تقسيم هذين الاسمين أن يُفرّق غرض تھی کہ وہ اُمت کو تقسیم کرے اور اس کے دو بين الأمة ويجعلهم فریقین گروہ بنا دے۔پس اُس نے اُن میں سے ایک فجعل فريقًا منهم كمثل موسى گروه کو موسی کی مثل مظہر جلال بنایا اور وہ نبی مظهر الجلال۔وهم صحابة كريم (ﷺ) کے وہ صحابہ ہیں جنہوں نے اپنے النبي الذين تصدوا أنفسهم آپ کو جنگوں کے لئے پیش کر دیا۔اور اللہ نے للقتال۔وجعل فريقًا منهم كمثل اُن میں سے ایک گروہ کو حضرت عیسی کی طرح عیسی مظهر الجمال وجعل مظہر جمال بنایا اور ان کے دلوں کو نرم بنایا اور قـلـوبهـم لينةً وأودع السـلـم صدورهم و أقامهم على أحسن ان کے سینوں میں سلامتی ودیعت کر دی۔اور انہیں عمدہ ترین خصائل پر قائم کیا اور وہ مسیح موعود اور الخصال۔وهو المسيح الموعود والذين اتبعوه من النساء اس کی پیروی کرنے والے مرد و زن ہیں۔اس طرح جو ( حضرت ) موسی نے فرمایا اور جو (حضرت) والرجال۔فتم ما قال موسى وما فاه بكلام عيسى وتم وعد الربّ عیسی نے فرمایا تھا وہ پورا ہوا اور قادر رب کا وعدہ الفعّال۔فإن موسى أخبر عن پورا ہوا۔حضرت موسیٰ (علیہ سلام ) نے ان اصحاب صحب كانوا مظهر اسم محمد کے متعلق خبر دی تھی جو ہمارے برگزیدہ نبی نبينا المختار وصور جلال الله | محمّد (ﷺ) کے نام کے مظہر اور کلام القهار۔بقول خداوندی اَشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ ، مطابق خدائے قہار کے جلال کے پیکر تھے۔" لے وہ کفار کے مقابل پر بڑے سخت ہیں۔(الفتح : ۳۰) الله ۱۲۲