ابن مریم

by Other Authors

Page 93 of 270

ابن مریم — Page 93

۹۵ کے ماں باپ کو خبر نہ ہوئی۔مگر یہ سمجھ کر کہ وہ قافلہ میں ہے ایک منزل نکل گئے اور اسے اپنے رشتہ داروں میں ڈھونڈنے لگے۔جب نہ ملا تو اسے ڈھونڈتے ہوئے یروشلم تک واپس گئے۔اور تین روز کے بعد ایسا ہوا کہ انہوں نے اسے ہیکل میں استادوں کے بیچ میں بیٹھے ان کی سنتے اور ان سے سوال کرتے پایا اور جتنے اس کی سن رہے تھے اس کی سمجھ اور اس کے جوابوں سے دنگ تھے۔وہ اسے دیکھ کر حیران ہوئے اور اس کی ماں نے اس سے کہا بیٹا ! تو نے کیوں ہم سے ایسا کیا ؟ دیکھ تیرا باپ اور میں کڑہتے ہوئے تجھے ڈھونڈتے تھے۔اس نے کہا تم مجھے کیوں ڈھونڈتے تھے ؟ کیا تم کو معلوم نہ تھا کہ مجھے اپنے باپ کے ہاں ہونا ضرور ہے ؟ تاریخ بائبل - صفحہ ۴۶۳) و (لوقا ۴۱۰۲ تا ۵۰) اس واقعہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی عبادت اور دینی علوم میں رغبت و انہماک کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔مسیح محمدي حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بچپن سے ہی دینی علوم میں شوق رکھتے تھے اور عبادت و ذکر الہی کا یہ عالم تھا کہ اپنا بیشتر وقت مسجد میں گزارتے یہاں تک کہ آپ کے والد صاحب آپ کو "مسیر " (یعنی مسجد میں دھونی رما کر بیٹھنے والا) کہا کرتے تھے۔اس پاکیزہ زندگی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیراحمد لکھتے ہیں۔ایام طفولیت میں بھی آپ کی طبیعت دینی امور کی طرف راغب تھی چنانچہ بعض روایات سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کھیل کود کے زمانہ میں بھی اپنے ساتھ کے بچوں سے کہا کرتے تھے کہ ” دعا کرو کہ خدا مجھے نماز کا شوق نصیب کرے۔" اور دوسرے بچوں کو بھی نیکی کی نصیحت