ابن مریم

by Other Authors

Page 13 of 270

ابن مریم — Page 13

۱۳ حدیث ہو۔«علماء أمتي كأنبياء بني إسرائیل» کے نام پر بھی ضرور کوئی آنا چاہئے تھا اور آنا بھی وہ چاہئے تھا جو درحقیقت امتی إنه خليفتي في أمتي كہ وہ ميرا خلیفہ ہے اور میری ہی امت میں سے ہے۔پس یہ ضروری تھا کہ (وفات یافتہ ) کی جگہ کوئی ایسا امتی ظاہر ہو جو خدا تعالٰی کے نزدیک کے رنگ میں ہو۔کیونکہ فیضانِ مصطفوی کا یہ خاصہ ہے کہ وہ امتی کو عیسی بنادے۔اگر عیسی علیہ السّلام کی اصالتاً آمد مراد لی جائے تو اس سے سخت مشکلات در پیش آتی ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی آیات کو کالعدم قرار دینا پڑتا ہے ہو۔پس اس بات کے سمجھنے کے لئے نہایت واضح اور صاف قرائن موجود ہیں کہ اس جگہ حضرت مسیح علیہ السلام کا حقیقی طور پر نجم عنصری نزول ہرگز مراد نہیں کیونکہ وہ تو بنی اسرائیل کے لئے رسول تھے۔اس امر کو اگر اس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو حقیقت مزید عیاں ہو جاتی ہے إن النبي ﷺ قال : لتتبعن سنن الذين من قبلكم شبراً بشبرٍ وذراعاً بذراع حتى لو سلكوا جحر ضب لسلكتموه۔قلنا : يا رسول الله اليهود والنصارى؟ قال : فمن»۔(صحیح مسلم، كتاب العلم باب اتباع سنن اليهود والنصارى)۔رَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَاء يل سورة ال عمران يبني إسراء يلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم ثورة الصنف ان آیات کی حیثیت بالکل ختم ہو جاتی ہے کیونکہ اگر بنی اسرائیل والے عیسیٰ علیہ السلام ہی امت محمدیہ میں آئیں تو وہ کہیں گے کہ میں تم میں رسول ہوں لیکن قرآن لریم کہے گا۔نہیں، إِلَى بَنِي إِسْرءیل دونوں میں سے ایک کا انکار لازم آتا ہے۔قرآن کریم کو چھوڑنا پڑتا ہے یا مسیح موعود ( ) کو۔ان میں سے جو بھی رستہ اختیار کیا جائے گمراہی کی تاریکیوں کی جانب جاتا ہے۔